جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک، نوشہرہ کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد ایک خودکش دھماکا ہوا، جس میں جے یو آئی (س) کے سربراہ اور دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم مولانا حامدالحق سمیت 6 افراد شہید جبکہ 18 زخمی ہو گئے۔ دھماکے کا ہدف مولانا حامدالحق تھے، جو نماز کے بعد اپنی رہائش گاہ کی طرف جا رہے تھے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
BulletsIn
- دھماکا نوشہرہ کے دارالعلوم حقانیہ کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد ہوا۔
- مولانا حامدالحق سمیت 6 نمازی شہید اور 18 زخمی ہوئے۔
- دھماکا مسجد کے خارجی راستے پر کیا گیا جہاں سے مولانا حامدالحق گزرتے تھے۔
- اسپتال میں زخمیوں میں سے ایک شخص دم توڑ گیا، جس سے شہداء کی تعداد 6 ہوگئی۔
- دھماکا خودکش تھا، جس میں مولانا حامدالحق کو نشانہ بنایا گیا۔
- مولانا حامدالحق، مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے اور جے یو آئی (س) کے سربراہ تھے۔
- خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری نے دھماکے کی تصدیق کی۔
- جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے وقت 25 پولیس اہلکار تعینات تھے۔
- مولانا حامدالحق کی سیکیورٹی پر 6 پولیس اہلکار مامور تھے۔
- بم ڈسپوزل یونٹ اور سی ٹی ڈی کی ٹیمیں تحقیقات کے لیے جائے وقوع پر پہنچ گئیں۔
