۔دھنتیرس کی تیاریاں زوروں پر، چین کو تقریباً 1 لاکھ کروڑ روپے کے نقصان کا دعویٰ
نئی دہلی، 09 نومبر (ہ س)۔ دھنتیرس اس سال 10 نومبر کو ہے۔ دیوالی سے پہلے دھنتیرس کو خریداری کے لیے بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ دن دہلی سمیت ملک بھر کے تاجروں کے لیے سامان کی فروخت کا بڑا دن ہے۔ ملک بھر کے تاجروں نے دھنتیرس کی تیاریاں زور و شور سے کی ہیں۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس (سی اے ٹی) کے قومی جنرل سکریٹری پروین کھنڈیلوال نے جمعرات کو کہا کہ دھنتیرس کے موقع پر آج اور کل دو دنوں کے اندر ملک بھر میں تقریباً 50 ہزار کروڑ روپے کے خوردہ کاروبار کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دوسری جانب اس بار دیوالی پر ‘ووکل فار لوکل’ کا اثر بازاروں میں پوری طرح نظر آرہا ہے۔
کھنڈیلوال نے ایک بیان میں کہا کہ اس بار زیادہ تر لوگ ہندوستان میں بنی اشیا خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دیوالی سے متعلق چینی سامان کی فروخت نہ ہونے سے چین کو تقریباً ایک لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
آل انڈیا جیولرس اینڈ گولڈ اسمتھ فیڈریشن (اے آئی جے جی ایف) کے قومی صدر پنکج اروڑہ نے کہا کہ کل دھنتیرس کی فروخت کو لے کر ملک بھر کے زیورات کے تاجروں میں زبردست جوش و خروش ہے۔ اس کے لیے صرافہ تاجروں نے بڑے پیمانے پر تیاریاں کی ہیں۔ سونے، چاندی اور ہیرے کے زیورات اور نئے ڈیزائن کے زیورات سمیت دیگر اشیا کا وافر ذخیرہ رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سال مارکیٹوں میں مصنوعی زیورات کی بھی زبردست مانگ نظر آرہی ہے۔
کیٹ کے دہلی ریاستی صدر وپن آہوجا اور ریاستی جنرل سکریٹری دیو راج باویجا نے بتایا کہ کل دھنتیرس کے دن راجدھانی دہلی میں چاندنی چوک، دریبہ کلاں، مالیواڑا، صدر بازار، کملا نگر، اشوک وہار، ماڈل ٹاون، شالیمار باغ، پتم پورہ ، روہنی، راجوری گارڈن، دوارکا، جنک پوری، ساوتھ ایکسٹینشن، گریٹر کیلاش، گرین پارک، یوسف سرائے، لاجپت نگر، کالکاجی، پریت وہار، شاہدرہ اور لکشمی نگر سمیت مختلف خوردہ بازاروں میں سامانوں میں خاص طور پر اضافہ ہونے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچار
