نئی دہلی، 06 اکتوبر (ہ س)۔ ٹیلی کام انفرا انڈسٹری کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنی پیس ڈیجی ٹیک کے شیئرز نے آج اسٹاک مارکیٹ میں زبردست انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کردیا۔ آئی پی او کے تحت، کمپنی کے حصص 219 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج یہ بی ایس ای پر 226.85 روپے اور این ایس ای پر 225 روپے کی سطح پر لسٹ ہوئے تھے۔ لسٹنگ کے بعد، خریداری کی حمایت کی وجہ سے اس شیئر کی حرکت میں مزید اضافہ ہوا۔ دوپہر 12 بجے تک ٹریڈنگ کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمت 229.35 روپے تھی۔ اس طرح کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں نے اب تک ٹریڈنگ میں 4.73 فیصد منافع کمایا ہے۔
پیس ڈیجی ٹیک کا 819.15 کروڑ روپے کا آئی پی او 26 اور 30 ستمبر کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کا اوسط ردعمل ملا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر اسے 1.68 گنا سبسکرپشن حاصل ہوا۔ اہل ادارہ جاتی خریداروں (کیو آئی بی) کے لیے ریزرو پورشن (مختص حصے) کو 1.69 گناسبسکرائب کیا گیا، جبکہ غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی) کے لیے مختص حصے کو 3.06 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصے کو 1.09 گنا سبسکرائب کیا گیا اور ملازمین کے لیے مختص حصے کو 1.83 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اس آئی پی اوکے تحت دو رپے کی فیس ویلیو والے 3,74,09,047 نئے حصص جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنی ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔
کمپنی کی مالی حالت کے بارے میںبات کریں تو پراسپیکٹس میں کئے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2022-23 میں، کمپنی نے 16.53 کروڑ روپے کا خالص منافع درج کیا، جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 229.87 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024-25 میں مزید بڑھ کر 279.10 کروڑ روپے ہو گیا۔ اس مدت کے دوران، کمپنی کی آمدنی 118 فیصد سے زیادہ کی کمپاو¿نڈ سالانہ ترقی کی شرح (سی اے جی آر) سے بڑھ کر 2,462.20 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرضوں کے بوجھ میں اتار- چڑھاو آتا رہا۔ مالی سال 2022-23 کے اختتام پر، کمپنی کا قرض 192.11 کروڑ روپے تھا، جو مالی سال 2023-24 کے اختتام تک بڑھ کر 493.19 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، مالی سال 2024-25 کے آخر میں، کمپنی کا قرض کم ہو کر 160.70 کروڑ روپے ہو گیا۔ اس مدت کے دوران کمپنی کے ریزرو اور سرپلس کے بارے میں بات کریں تو یہ مالی سال 2022-23 کے اختتام پر 313.31 کروڑ روپے تھے، جو مالی سال 2023-24 کے اختتام تک بڑھ کر 534.58 کروڑ روپے ہو گئے اور مالی سال 2024-2525 کے اختتام تک بڑھ کر 1,134.21 کروڑ روپے ہو گئے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد
