چنئی، 16 اگست (ہ س)۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر تمل ناڈو پر امریکہ کے 50 فیصد محصولات کے وسیع اثرات پر روشنی ڈالی ہے ،جس میں برآمدات پر مبنی شعبوں میں چھٹنی کا خطرہ ہے۔
وزیر اعلی اسٹالن نے ریاست کے صنعتی شعبے پر 50 فیصد امریکی محصولات کے سنگین اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور وزیر اعظم پر زور دیا ہے کہ وہ تجارت کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے برآمد کنندگان کی مدد کے لیے خصوصی مالی امدادی پیکج فراہم کرنے سمیت فوری اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔
اسٹالن نے خط میں لکھا، ”میں آپ کی توجہ تمل ناڈو کے لیے ایک باعث تشویش معاملہکی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں، کیونکہ موجودہ 25 فیصد محصولات اور اس کے 50 فیصد تک بڑھنے کے خدشاتکی وجہ سے اسے سنگین نتائج کا سامنا ہے۔“ انہوں نے وزیر اعظم کو لکھا”ٹیکسٹائل، ملبوسات، مشینری، آٹوموبائل، جواہرات اور زیورات، چمڑے، جوتے، سمندری مصنوعات اور کیمیکل کے شعبے اس ٹیکس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ یہ اور بھی تشویشناک ہے کہ یہ تمام شعبے محنت کش صنعتیں ہیں اور برآمدات میں کسی بھی طرح کی سست روی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں کا نقصان ہوگا۔“
وزیر اعلی نے لکھا،”وہ وزیر اعظم کی توجہ تمل ناڈو کو درپیش ایک اہم مسئلہ کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں، جو موجودہ محصولات میں اضافے کی وجہ سے شدید اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں ہندوستان کی کل 433.6 ارب ڈالر کی تجارتی برآمدات کا 20 فیصد امریکہ کو بھیجا گیا ، جب کہ تمل ناڈو کی 52.1 ارب ڈالر کی کل تجارتی برآمدات کا 31 فیصد امریکہ کوبرآمد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ تمل ناڈو امریکی مارکیٹ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے محصولات کا اثر ہندوستان کی دیگر ریاستوں کے مقابلے تمل ناڈو پر زیادہ پڑے گا۔ اس کا تمل ناڈو کے مینوفیکچرنگ سیکٹر اور روزگار پر بھی منفی اثر پڑے گا، جبکہ امریکی ٹیرف سے مختلف شعبوں میں لاکھوں لوگوں کی روزی روٹی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اسٹالن نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ وہ متعلقہ وزارتوں اور صنعت کے شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کے بعد اس معاملے میں فوری مداخلت کریں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد
