غزہ،21ستمبر(ہ س)۔اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر میں سیکڑوں گھروں اور عمارتوں کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں شہر پر ہونے والے فضائی حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، بالخصوص شیخ رضوان محلے کی پوری کی پوری بستیاں زمین بوس ہو چکی ہیں۔اتوار کو العربیہ/الحدث کے نامہ نگارنے بتایا کہ اسرائیلی بمباری شیخ رضوان، شارع الجلاء، الزرقاء، جبالیہ البلد اور شمالی غزہ کے علاقے الکرامہ کے گردونواح میں شدت کے ساتھ جاری رہی۔ نمائندے کے مطابق اسرائیلی فوج نے رہائشی عمارتوں کو تباہ کرنے کی پالیسی اپنائی ہے اور محلے کے اندر بارود سے بھری گاڑیاں دھماکے سے اڑا کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی، جیسا کہ جبالیا اور رفح میں ہوا۔
گذشتہ روز اسرائیلی ڈرون طیاروں نے ایک ٹرک کو بھی نشانہ بنایا جس میں بے گھر فلسطینی مواصی کے علاقے کی جانب جا رہے تھے۔ اسرائیلی فوج وہاں زبردستی لوگوں کو منتقل کر رہی ہے، حالانکہ وہاں پانی، خوراک اور پناہ جیسی بنیادی سہولتیں موجود نہیں۔ہزاروں فلسطینی ہارون الرشید شاہراہ کے ذریعے جنوب کی طرف ہجرت پر مجبور ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج رفح اور خان یونس پر اپنی بمباری تیز کیے ہوئے ہے، خاص طور پر موراج فوجی محور پر، جہاں فلسطینی اس انتظار میں کھڑے تھے کہ انسانی امداد کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے داخل ہو۔حماس کے مطابق اسرائیلی فوج نے 11 اگست سے اب تک غزہ شہر میں 1800 سے زیادہ رہائشی عمارتوں کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیا ہے جبکہ بے گھر خاندانوں کے لیے لگائی گئی 13 ہزار سے زائد خیمے بھی ملیامیٹ کر دیے۔غزہ کے مکینوں نے پہلے ہی تصدیق کی تھی کہ اسرائیلی فوج نے الزیتون، التفاح، الشجاعیہ اور شیخ رضوان سمیت کئی علاقوں کو زمین کے برابر کر دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر نے شیخ رضوان میں درجنوں عمارتوں کی تباہی کو واضح طور پر دکھایا۔
عالمی غیر سرکاری تنظیم ایہ سی ایل ای ڈی نے ریکارڈ کیا ہے کہ اگست کے آغاز سے اب تک غزہ شہر میں 170 سے زیادہ مسماری کی کارروائیاں ہو چکی ہیں، زیادہ تر مشرقی علاقوں، الزیتون اور الصبرہ میں۔ تنظیم کی تجزیہ کار امینہ مہفار کے مطابق حالیہ کارروائیوں کا پیمانہ اور رفتار ماضی کے ادوار سے کہیں زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ سلسلہ فلسطینیوں کے مستقل انخلا پر منتج ہو سکتا ہے۔ ترجمان ثمین الخیطام نے کہا کہ آبادی کو جان بوجھ کر بے دخل کرنا نسلی تطہیر کے زمرے میں آتا ہے۔یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے مئی میں دھمکی دی تھی کہ غزہ پٹی کا بیشتر حصہ مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا اور وہاں کے رہائشی مصر کی سرحد کے قریب ایک تنگ پٹی میں دھکیل دیے جائیں گے۔ اسی طرح وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بھی چند روز قبل اعلان کیا کہ پورا غزہ حماس کی قبر کا کتبہ بنا دیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan
