تل ابیب،11فروری ۔
اسرائیل کی فوج نے غزہ میں پہلی بار جنگ میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والی کچھ فوجی ٹیکنالوجی تعینات کی ہے جس سے جدید جنگ میں خودکار ہتھیاروں کے استعمال کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔فوج نے اشارہ دیا ہے کہ نئی ٹیک کس کے لیے استعمال کی جا رہی ہے کیونکہ ترجمان ڈینیئل ہگاری نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ اسرائیل کی افواج ایک ساتھ زمین پر اور زیرِ زمین کام کر رہی تھیں۔ایک سینئر دفاعی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ٹیکنالوجی دشمن کے ڈرون کو تباہ اور غزہ میں حماس کے وسیع سرنگ نیٹ ورک کی نقشہ سازی کر رہی تھی۔نئی دفاعی ٹیکنالوجیز بشمول مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گن سائیٹس اور روبوٹک ڈرونز نے اسرائیل کی ٹیک انڈسٹری کے لیے بصورتِ دیگر سنگین دور میں ایک روشن مقام بنایا ہے۔2022 میں اس شعبے کا جی ڈی پی میں 18 فیصد حصہ تھا لیکن غزہ میں جنگ نے تباہی مچا دی ہے اور اندازے کے مطابق آٹھ فیصد افرادی قوت کو لڑائی کے لیے بلایا گیا ہے۔
ایک اسرائیلی ٹیک انکیوبیٹر اسٹارٹ اپ نیشن سینٹرل کے چیف ایگزیکٹیو ایوی ہاسن نے کہا، عمومی طور پر غزہ میں جنگ خطرات تو پیش کرتی ہے لیکن میدان میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو جانچنے کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔میدانِ جنگ میں اور ہسپتالوں دونوں میں ایسی ٹیکنالوجیز ہیں جو اس جنگ میں استعمال کی گئی ہیں جو ماضی میں استعمال نہیں ہوئیں۔لیکن ہیومن رائٹس واچ کی ہتھیاروں کی ماہر میری ویرہم نے اے ایف پی کو بتایا، شہریوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دفاعی ٹیکنالوجی کی نئی شکلوں کے استعمال کی بہت زیادہ نگرانی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا، اب ہم موت اور مصائب کی بدترین ممکنہ صورتِ حال کا سامنا کر رہے ہیں جو ہم آج دیکھ رہے ہیں – اس میں سے کچھ نئی ٹیک کے ذریعہ سامنے آئے ہیں۔دسمبر میں 150 سے زیادہ ممالک نے اقوامِ متحدہ کی ایک قرارداد کی حمایت کی جس میں نئی فوجی ٹیکنالوجی میں سنگین چیلنجوں اور خدشات بشمول ہتھیاروں کے نظام میں مصنوعی ذہانت اور خود مختاری کی نشاندہی کی گئی تھی۔بہت سے دوسرے جدید تنازعات کی طرح جنگ کی بھی سستے بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیوں کے پھیلاو¿ سے تشکیل دی گئی ہے جنہیں ڈرون بھی کہا جاتا ہے جس نے فضائی حملوں کو آسان اور سستا بنا دیا ہے۔
حماس نے انہیں 7 اکتوبر کو دھماکہ خیز مواد گرانے کے لیے استعمال کیا جب کہ اسرائیل نے انہیں مار گرانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی کا رخ کیا ہے۔سب سے پہلے فوج نے اسرائیلی اسٹارٹ اپ سمارٹ شوٹر کی تیار کردہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ایک فعال بصارت کا استعمال کیا ہے جو رائفلوں اور مشین گنوں جیسے ہتھیاروں سے منسلک ہے۔سینئر دفاعی اہلکار نے کہا، اس سے ہمارے فوجیوں کو ڈرون کو روکنے میں مدد ملتی ہے کیونکہ حماس بہت زیادہ ڈرون استعمال کرتی ہے۔وال اسٹریٹ جرنل نے گذشتہ مہینے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل کا اہم بین الاقوامی اتحادی اور ہر سال اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرنے والا امریکہ خود اپنے فوجیوں کو اسمارٹ شوٹر کی آپٹک سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے ڈرون مار گرانے کی تربیت دے رہا تھا۔
