مار پیٹ کے معاملے میں اے بی وی پی کے 200 کارکنان نے کیا احتجاج، ایس آئی معطل
اندور، 18 جنوری (ہ س)۔ شہر کے ایک پرائیویٹ کالج میں طالبہ سے ہوئی چھیڑچھاڑ کی شکایت درج کرانے تھانے پہنچے اے بی وی پی کارکنان کے ساتھ پولیس کے ذریعہ مار پیٹ کئے جانے کی مخالفت میں 200 سے زیادہ اے بی وی پی اور دیگر طلبہ تنظیموں کے کارکنان نے بدھ دیر رات بانگنگا پولیس تھانے میں دھرنا مظاہرہ کیا۔ اطلاع ملتے ہی سینئر افسران بانگنگا تھانے پہنچے اور طلبہ کوسمجھایا۔ اس معاملے میں ایک ایس آئی کو معطل اور چار پولیس والوں کو لائن اٹیچ کیا گیا ہے۔
اے بی وی پی کے کارکنان بدھ کی دیر رات تقریباً دس بجے تھانے پہنچے۔ انہوں نے رپورٹ درج کرانے آئے کارکنان سے مار پیٹ کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی مانگ کرتے ہوئے دھرنا مظاہرہ کیا۔ دو گھنٹے تک طلبہ تھانے میں بیٹھ کر مار پیٹ کرنے والے پولیس اہلکاروں اور تھانہ انچارج کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبے کو لیکر بضد رہے۔ سینئر افسران کو موقع پر پہنچنا پڑا۔ ہنگامہ کر رہے طلبہ کی شکایت پر دیر رات ایس آئی چوہان کو معطل کر دیا گیا۔ وہیں کمل جریا، ابھیشیک جائسوال سمیت چار پولیس اہلکاروں کو لائن اٹیچ کیا گیا ہے۔
احتجاج کررہے اے بی وی پی کارکنوں کا الزام ہے کہ چھیڑ چھاڑ کا واقعہ بدھ کی صبح ایک نجی کالج میں پیش آیا۔ جب اے بی وی پی شہر سکریٹری سارتھک جین، ساتھی کارکن چاتک واجپئی اور کشل یادو رپورٹ کرنے تھانے پہنچے تو پولیس والوں نے ان کی بات نہیں سنی اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔
پولیس والوں نے انہیں ڈنڈوں سے پیٹا اور انہیں جوتے بھی سنگھائے۔ اس معاملے میں ایڈیشنل ڈی سی پی زون 3 رام اسنہی مشرا کا کہنا ہے کہ چھیڑ چھاڑ کا واقعہ ایک پرائیویٹ کالج میں پیش آیا۔ جن کارکنوں کے ساتھ طالبہ رپورٹ کرنے آئی تھی، انہوں نے پولیس پر حملہ کا الزام لگایا ہے۔ ہم معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔ فی الحال طلبہ کو سمجھا کر پرسکون کردیا گیاہے۔ تحقیقات میں جو بھی قصوروار پایا گیا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
