گوالیار، 24 دسمبر (ہ س)۔
گوالیار میں ہفتہ کی دیر رات شوہر نے کردار پر شک کی وجہ سے بیوی کے سر پر ہسیا مار کر قتل کر دیا۔ واردات کے بعد ملزم نے خود کو گھر میں بند کر لیا تھا۔ خاتون کے بیٹے اور بھائی نے کسی طرح دروازہ کھولا۔ اطلاع ملنے پر جنک گنج تھانے کی پولیس پہنچی اور ملزم کو گرفتار کرلیا۔ اس نے بتایا کہ منع کرنے کے بعد بھی بیوی کسی سے فون پر بات کرتی تھی۔ اسے شک تھا کہ اس کی بیوی کا کسی کے ساتھ معاشقہ ہے۔
معلومات کے مطابق گول پہاڑیا بجلی گھر روڈ پرخوشبو اوچاڑیا (36) اور دھنی رام اوچاڑیا عرف پنکی رہتے تھے۔ ان دونوں کی یہ دوسری شادی تھی۔ دھنی رام کے تین بچے ہیں۔ بڑا بیٹا کرشنا ان کی پہلی بیوی سے ہے۔ خوشبو کے دو بچے ہیں۔ متوفیہ کے بیٹے کرشنا نے بتایا کہ اس کے والد کا ان کی ماں سے آئے روز جھگڑا ہوتا تھا۔ ہفتہ کی شام کو بھی دونوں کے درمیان لڑائی ہوئی تھی۔ جس کے بعد والد نے اسے باہر بھیج دیا۔ اس دوران ملزم نے بیوی کے سر پر ہسیا سے حملہ کرکے قتل کر دیا۔ بیوی پر حملہ کرنے کے بعد ملزم گھر کو اندر سے تالا لگا کر ایک گھنٹے تک اسی کمرے میں بیٹھا رہا۔ بیوی اس کے سامنے تڑپ تڑپ کر مر گئی۔ متوفیہ کا بیٹا کرشنا واپس آیا تو گھر اندر سے بند تھا۔ والد نے فون کرنے پر بھی گیٹ نہیں کھولا۔ اس کے بعد ماموں راج کمار کو بلا کر لیکر آیا۔ دونوں نے بات کی تو ملزم نے دروازہ کھول دیا۔ اندر ماں کی لاش پڑی تھی۔ کرشنا اور اس کے ماموں راج کمار نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع ملنے پر پولیس پہنچی۔ تفتیش کے دوران خاتون کے سر پر ہسیا کے متعدد وار کے نشانات ملے۔ پولیس نے ہسیا کو برآمد کر لیا ہے۔ جنک گنج تھانے کے انچارج وپیندر سنگھ چوہان کا کہنا ہے کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فون پر بات کرنے کولیکر جھگڑا ہوا۔ تفتیش کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار//محمد
