غزہ،15نومبر(ہ س)۔
حماس نے اسرائیلی فوج کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ’ الشفاءہسپتال ‘ کو حماس نے یرغمالیوں کے رکھنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ منگل کے روز حماس نے اس اسرائیل کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینئل ہاگری کی طرف سے پیر کی شام کہا گیا تھا ‘ ایسی علامتیں ملی ہیں جو اس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ حماس نے ہسپتال کے تہہ خانے کو یرغمال رکھنے کے لیے استعمال کیا۔تاہم اس دعوے کو مغربی ذرائع ابلاغ نے بھی آزادانہ طور پر کنفرم نہیں کیا ہے۔ جبکہ غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے ‘ ہسپتال کے تہہ خانے کو جنگ زدہ شہریوں گھروں سے بھاگ کر استعمال کیا تھا۔ ‘خیال رہے اسرائیلی فوجی ترجمان نے ایک بچے کی بوتل، عارضی بیت الخلاءاور ایک گولیوں کا نشانہ بن چکے موٹر سائیکل کی تہہ خانے میں موجودگی کو یہاں یرغمالیوں کے رکھے جانے کے شواہد کے طور پر پیش کیا تھا۔
وزارت صحت نے اس سلسلے میں اسرائیلی فوج کی پیش کردہ ویڈیو کو بھی کمزور قرار دیتے ہوئے کہا ‘ اس سے فوجی دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ ہسپتال کا تہہ خانہ بنیادی طور پر ہسپتال کا سٹور تھا ، جس میں بمباری سے بھاگ کر آنے والے شہریوں نے پناہ لی۔ واضح رہے غزہ کے تقریباً سبھی ہسپتالوں کے بارے میں بالعموم اور ’الشفاءکے بارے میں بالخصوص اسرائیلی فوج کا دعویٰ رہا ہے کہ حماس کے آپریشن سنٹرز کے طور پر کرتے ہیں۔ نیز یہاں سے حماس راکٹ فائر کرتی ہے۔ لیکن اس کے تہہ خانے تک پہنچ کر اسرائیلی فوج نے جو فوٹیج بنا کر پیش کی اور جو دعویٰ کیا ہے اس میں حماس کا ہسپتال کو اپنے ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال کرنے کی بات شامل نہیں کی گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
