نئی دہلی ، 14 نومبر (ہ س)۔
اشیائے خوردونوش میں کمی کے باعث اکتوبر میں تھوک مہنگائی کی شرح بھی کم ہو کر 0.52 فیصد پر آگئی ہے۔ اپریل کے بعد یہ مسلسل ساتواں مہینہ ہے ، جب تھوک مہنگائی کی شرح صفر سے نیچے ہے۔ اس سے قبل ستمبر میں تھوک مہنگائی 0.26 فیصد تھی۔وزارت تجارت اور صنعت نے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار میں کہا کہ تھوک قیمت انڈیکس (ڈبلیو پی آئی) پر مبنی تھوک مہنگائی کی شرح اکتوبر میں کم ہو کر – 0.52 فیصد ہوگئی ہے۔ اکتوبر 2022 میں ڈبلیو پی آئی کی بنیاد پر تھوک مہنگائی کی شرح 8.67 فیصد تھی۔ گزشتہ ماہ ستمبر میں یہ 0.26 فیصد تھا۔ اگست میں یہ -0.52 فیصد تھا۔ ڈبلیو پی آئی پر مبنی ہول سیل مہنگائی اپریل سے مسلسل صفر سے نیچے ہے۔ تھوک مہنگائی کی شرح میں کمی کیمیائی مصنوعات ، معدنی تیل اور ٹیکسٹائل وغیرہ کی وجہ سے ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر کے مہینے میں اشیائے خوردونوش کی مہنگائی کی شرح 2.53 فیصد پر آگئی ہے جو ستمبر میں 3.35 فیصد تھی۔ ایندھن اور بجلی کے شعبے میں افراط زر کی شرح -2.47 فیصد رہی جو ستمبر میں -3.35 فیصد تھی۔ اسی طرح اکتوبر میں تیار شدہ مصنوعات کی افراط زر – 1.13 فیصد تھی ، جب کہ ستمبر میں یہ – 1.34 فیصد تھی۔ وزارت نے کہا کہ اکتوبر میں تھوک مہنگائی صفر سے نیچے رہنے کی بنیادی وجہ کیمیکل اور کیمیائی مصنوعات ، بجلی ، ٹیکسٹائل ، بنیادی دھاتیں ، کھانے پینے کی اشیاء، کاغذ اور کاغذی مصنوعات وغیرہ کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں کمی تھی۔ .قومی شماریاتی دفتر (این ایس او) کے جاری کردہ آخری اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں خوردہ افراط زر کی شرح سالانہ بنیادوں پر 4.87 فیصد کی پانچ ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
