جموں کے ارینا سیکٹر میں پاک رینجرس اور بی ایس ایف کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ رکا
جموں، 27 اکتوبر(ہ س)۔ جموں ضلع کے ارنیا اور آر ایس پورہ سیکٹروں میں بین الاقوامی سرحد کے ساتھ پاکستانی رینجرس اور بی ایس ایف کے جوانوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جمعہ کی صبح ختم ہو گیا۔ پاکستانی رینجرز کی بلااشتعال فائرنگ کے بعد راتوں رات سرحدی بستیوں سے ہجرت کرنے والے سینکڑوں خاندان اب اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے ہیں۔
جمعرات کی رات بین الاقوامی سرحد (آئی بی) کے ساتھ پانچ ہندوستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے والی سرحد پار سے فائرنگ کے نتیجے میں بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کا ایک جوان اور ایک شہری زخمی ہوگیا۔ بی ایس ایف نے فائرنگ کا موثر جواب دیا۔ حکام نے بتایا کہ سرحد پار سے فائرنگ رک گئی ہے۔ اب وہاں حالات پُر سکون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ صبح تین بجے تک جاری رہا۔ اہلکار نے بتایا کہ جمعرات کی رات بی ایس ایف کے دو اہلکار اور ایک خاتون زخمی ہوئے اور انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ایک جوان کو جموں کے جی ایم سی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ زخمی اہلکاروں کی شناخت کرناٹک سے تعلق رکھنے والے بسوراج ایس آر اور شیر سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ خاتون کی شناخت ارنیا کی رجنی بالا کے طور پر ہوئی ہے۔ پاکستان رینجرز نے 82 اور 120 ایم ایم مارٹر گولے داغے اور بھاری مشین گنوں کا استعمال کیا جس سے سرحدی باشندوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔
کئی خاندانوں نے سرحدی علاقے میں بنکروں، مندروں اور دیگر محفوظ مقامات پر پناہ لے رکھی تھی۔ سرحدی دیہات کے لوگوں نے بتایا کہ انہوں نے کئی سالوں بعد اتنی شدید فائرنگ اور گولہ باری دیکھی ہے۔ جب فائرنگ شروع ہوئی تو ہم کھانا کھا رہے تھے۔ ہم نے کھانا چھوڑ دیا اور اپنے خاندانوں کے ساتھ بھاگے۔ ایک اور دیہی باشندے راکیش کمار نے کئی گاؤں والوں کے ساتھ آگے گاؤں کے ایک بنکر میں پناہ لی تھی، نے بتایا کہ وہ اب اپنے گاؤں واپس آ رہے ہیں۔ کئی سالوں کے بعد شدید فائرنگ اور گولہ باری ہوئی۔ پچھلے دو سالوں سے امن تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا پر بہت سی ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ شروع ہونے پر لوگ اپنے گھروں سے بھاگ رہے ہیں۔
فائرنگ شروع ہونے پر ارنیا میں شادی کی تقریب سے کئی مہمان فرار ہو گئے۔ اکتوبر کے مہینے میں پاکستان کی طرف سے جنگ بندی کی یہ دوسری خلاف ورزی ہے۔ 19 اکتوبر کو ارنیا سیکٹر میں آئی بی کے ساتھ وکرم چوکی پر پاکستان رینجرز کی فائرنگ میں بی ایس ایف کے دو جوان زخمی ہو گئے۔ بتا دیں کہ بھارت اور پاکستان نے 25 فروری 2021 کو جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس میں دونوں ممالک نے جموں و کشمیر اور دیگر سیکٹروں میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ جنگ بندی کے تمام معاہدوں پر سختی سے عمل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
