ڈی اے تحریک : نوان کے قریب پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ
ہاوڑہ، 22 دسمبر (ہ س)۔ مغربی بنگال سکریٹریٹ نوان کے پاس پولیس اور ڈی اے میں اضافے کے مطالبے کو لیکر مظاہرہ کر رہےریاستی حکومت کے ملازمین کے درمیان جمعہ کی صبح جھڑپ ہوگئی۔ کولکاتا ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنظیم ’’سنگمری سنگم منچ‘‘ سے وابستہ مظاہرین کے ایک گروپ نے جمعرات کی رات ہی نوان بس اسٹینڈ پر دھرنا دینے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے مبینہ طور پر مظاہرین کو روک دیا جس کی وجہ سے مظاہرین کو پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔ اس کے بعد تحریک کرنے والے جمعہ کی صبح دوبارہ احتجاج کرنے کے لیے نوان بس اسٹینڈ کے قریب پہنچ گئے۔
مظاہرین کو پولیس نے ابتدائی طور پر بیریکیڈ لگا کر روکا۔ الزام ہے کہ ہائی کورٹ کی اجازت کے باوجود انہیں نوان بس اسٹینڈ پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ حالانکہ مظاہرین سڑک پر ہی بیٹھے رہے۔ جب پولیس نے انہیں سڑک سے ہٹنے کو کہا تو تنازعہ شروع ہوگیا۔ مظاہرین میں سے ایک بھاسکر گھوش نے کہا، ’’ہم عدالت کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے یہاں دھرنا دینے اور احتجاج کرنے آئے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ہم دو ہزار مربع فٹ جگہ پر بیٹھ سکتے ہیں۔ ہم اس وقت تک سڑک نہیں چھوڑیں گے جب تک ہمیں وہ جگہ نہیں دی جاتی۔‘‘ بعد میں پولیس نے بیریکیڈ ہٹا دیا۔ نوان سکریٹریٹ کے نزدیک مقررہ جگہ پرپولیس نے بیٹھنے کا انتظام کیا ہے۔ فی الحال مظاہرین وہیں بیٹھےہوئے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو کولکاتا ہائی کورٹ نے ڈی اے مظاہرین کو ریاستی سکریٹریٹ نوان بس اسٹینڈ کے پاس بیٹھ کر احتجاج کرنے کی مشروط اجازت دی تھی۔ جسٹس راج شیکھر منتھا نے جمعرات کو کہا تھا کہ احتجاجی پروگرام 72 گھنٹے سے زیادہ نہیں چل سکتا۔ وہاں ایک وقت میں 300 سے زیادہ لوگ نہیں رہ سکتے۔ اس پر ریاستی حکومت کی طرف سے اعتراض کیا گیا، جس پر جج نے کہا کہ اگر ریڈ روڈپر یا جہاں دفعہ 144 نافذ ہے، وہاں سیاسی پروگراموں کی اجازت ہے تو سکریٹریٹ کے سامنے کیوں نہیں؟
ہائی کورٹ کی اجازت ملنے کے بعد ہی سنگمری جوائنٹ فورم نے نئی مہم کی تاریخ کا اعلان کیا۔ انہوں نے 22، 23 اور 24 دسمبر یعنی جمعہ سے اتوار تک نوان بس اسٹینڈ کے سامنے احتجاجی پروگرام کی کال دی ہے۔ مظاہرین مرکزی حکومت کے ملازمین کے برابر ڈی اے دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
