نئی دہلی ، 3 نومبر (ہ س)۔
دہلی میں دم گھٹنے والی آلودگی کی وجہ سے لوگوں کی سانسیں رک رہی ہیں۔ دارالحکومت کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ دہلی کے اسپتالوں کے سانس کے امراض کے شعبوں میں مریضوں کی لمبی قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔ آلودگی نے دمہ اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔پی ایس آر آئی ہسپتال دہلی کے شعبہ سانس کے امراض کے چیئرمین ڈاکٹر جی سی کھلنانی کا کہنا ہے کہ آلودگی نے نہ صرف دمہ کے مریضوں کے مسائل میں اضافہ کیا ہے بلکہ دمہ کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ او پی ڈی میں دمہ کے مریض روزانہ آنے لگے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دمہ میں مبتلا افراد کا فینو ٹیسٹ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی سانس کی نالی میں سوجن ہو گئی ہے۔ایف ای این او یعنی فریکشن آف ایکجیلڈ نائٹرک آکسائیڈ ٹسٹ یہ بتانے کے قابل ہے کہ سانس کی نالی میں سوجن کی وجہ سے مریض کو سانس چھوڑنے میں کتنی محنت کرنی پڑتی ہے۔ دہلی کے لوگوں میں اس ٹیسٹ کی سطح نمایاں طور پر بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آلودگی بچوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ یہ بچوں کے پھیپھڑوں کی نشوونما نہیں ہونے دیتا۔ یہ سنگین بیماریوں کی وجہ بھی بن گیا ہے۔
جے پور گولڈن ہسپتال کی سینئر ڈاکٹر ڈاکٹر سوجیتا کا کہنا ہے کہ آلودگی بالغوں سے زیادہ بچوں کو متاثر کر رہی ہے۔ بچوں کے پھیپھڑوں کی نشوونما میں مشکلات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بالغوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ آج کل ہر سڑک پر ماحول ایک سموکنگ زون جیسا ہے۔ یہ نہ صرف ان مریضوں کو متاثر کرتا ہے جنہیں الرجی یا دمہ ہے بلکہ عام لوگ بھی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ لوگوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ صبح سویرے یا شام کو دیر سے باہر نکلنے سے گریز کریں کیونکہ اس وقت آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے این95 ماسک پہننا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار
