نئی دہلی ، 6 دسمبر (ہ س)۔
دہلی فسادات میں منی لانڈرنگ کیس کے ملزم طاہر حسین کے خلاف درج مقدمے میں استغاثہ کی طرف سے کوئی بھی پیش نہ ہونے کے بعد دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے ای ڈی کے خصوصی ڈائریکٹر کو طلب کیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے ای ڈی کے خصوصی ڈائریکٹر کو اگلی سماعت یعنی 8 دسمبر کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔
دراصل اس کیس میں طاہر حسین نے اپنی اہلیہ کے حق میں جنرل پاور آف اٹارنی پر دستخط کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست پر ای ڈی کی طرف سے کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا۔ سماعت کے دوران طاہر حسین کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نوین کمار ملہوترا نے کہا کہ انہیں ای ڈی کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔عدالت نے نوٹ کیا کہ اپنے حکم میں ای ڈی کو ملزم کے وکیل کو اپنے جواب کی پیشگی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ای ڈی کی طرف سے نہ تو کوئی حاضر ہوا اور نہ ہی کوئی جواب داخل کیا گیا۔ اس کے بعد عدالت نے ای ڈی کے خصوصی ڈائریکٹر کو طلب کیا۔
عدالت نے 11 جنوری کو طاہر حسین کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی۔ عدالت نے منی لانڈرنگ ایکٹ کے سیکشن 3 اور 4 کے تحت الزامات عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے طاہر حسین کو الزامات سے آگاہ کیا جس کے بعد طاہر حسین نے ٹرائل کے ذریعے الزامات کا سامنا کرنے کی بات کی۔ای ڈی نے طاہر حسین اور امیت گپتا کو ملزم بنایا ہے۔ 16 اکتوبر 2020 کو چارج شیٹ ای ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پنکج کمار کھتری نے داخل کی تھی۔ چارج شیٹ میں طاہر پر شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات میں پیسہ لگانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ای ڈی نے کہا ہے کہ فسادات کے لیے تقریباً 1.25 کروڑ روپے میں ہتھیار خریدے گئے تھے۔ ای ڈی کے مطابق طاہر حسین اور اس سے جڑے لوگوں نے ایک کروڑ دس لاکھ روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ فسادات کے لیے جمع کی گئی رقم ایک فرضی کمپنی کے ذریعے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری احتجاج میں لگائی گئی۔
ہندوستھان سماچار
