کولکاتہ،
کولکاتہ کے گارڈن ریچ علاقے میں پیر کو ایک پانچ منزلہ زیر تعمیر عمارت گر گئی جس سے مرنے والوں کی تعداد پانچ ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق، گارڈن ریچ میں ہزاری مولا باغان میں ایک پانچ منزلہ عمارت کا ایک حصہ اتوار کی نصف شب کے قریب ملحقہ کچی آبادی پر گر گیا۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی ہدایات کے بعد پولیس نے عمارت کے پروموٹر محمد وسیم کو پیر کو گرفتار کر لیا۔
انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے جب کہ بعض دیگر اب بھی ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔ پیر کی صبح تک مر نے والوں کی تعداد دو تھی لیکن اب یہ بڑھ کر پانچ ہو گئی ہے۔ مرنے والوں کی شناخت حسینہ خاتون (55)، شمع بیگم (54)، اکبر علی (34)، محمد واصف (30) اور رضوان عالم (22) کے طور پر ہوئی ہے۔ تین بچوں سمیت سولہ افراد اس وقت شہر کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ فائر سروس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ریسکیو آپریشن مکمل ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ ریاستی وزیر فرہاد حکیم بھی یہاں سے ترنمول کانگریس کے ایم ایل اے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ہر مرنے والوں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے اور زخمیوں کو ایک لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
دریں اثنا، مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سوبھیندو ادھیکاری نے دعویٰ کیا کہ علاقے میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات ہو رہی ہیں۔ادھیکاری نے سوال کیا کہ گارڈن ریچ علاقے میں 800 سے زیادہ غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں۔ یہ علاقہ میئر فرہاد حکیم کا آبائی علاقہ ہے۔ کیا وہ اتنا کھلا جھوٹ بول سکتا ہے کہ اسے اس بات کا علم ہی نہ ہو؟
کیا یہ قابل اعتبار ہے کہ ایسی غیر قانونی تعمیرات ان کی ناک کے نیچے ان کے علم میں لائے بغیر ہوئیں؟ ریسکیو آپریشن کے دوران ایک ریسکیو کی نقالی کرنا اور فوٹیج حاصل کرنا کتنی شرم کی بات ہے۔
