سرینگر ٬13 فروری ۔
دہشت گردی سے لے کر سیاحت تک سرینگر کے لالچوک میں کیا کچھ بدل گیا ہے۔اس سلسلے میں اگرچہ لالچوک سال کے کئی دنوں یا ہفتوں تک دہشت گردوں یا علیحدگی پسندوں کی ہڑتال کالوں کی وجہ سے بند رہتا تھا, جبکہ اس لالچوک میں ہر روز دہشت گردوں اور پتھر بازوں کی جانب سے ہنگامہ دیکھنے کو مل رہا تھا ۔تاہم پچھلے کئی سال سے کشمیر کے سبھی علاقوں کے ساتھ ساتھ لالچوک میں بھی حالات بہتر ہوۓ ہیں۔بازاروں میں چہل پہل ہے ۔جبکہ باہری ریاستوں سے آنے والے سیاح دن بھر لالچوک میں بنا ڈر کے گھوم رہے ہیں خاص کر لالچوک کے گھنٹا گھر کے ارد گرد سلفییاں لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس دوران لالچوک جسے اب سمارٹ سٹی بھی کہا جاتا ہے۔باہر سے آنے والے سیاح بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ان سیاحوں نے مانا ہے کہ حالات پہلے سے کافی بہتر ہیں۔چاروں طرف ترقیاتی کام دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔سیاح اب دن رات بغیر ڈر اور خوف کے گھوم پھر سکتا ہے ۔ان لوگوں نے کہا ہے کہ واقعی میں لوگ مہمان نواز ہیں اور نرم دل بھی ہیں۔
غور طلب ہے کہ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کے بعد حالات بدل گۓ ہیں۔پتھر بازی اور دہشت گردی پر لگام کس لی گئی ہے۔دوسری جانب دیکھا جائے تو اس میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر پولیس کے سینئر افسران خاص کر پولیس سربراہ آر آر سوین کا اہم رول ہے , جنہوں نے دہشت گردی اور پتھر بازی پر لگام کسنے کےلۓ دن رات اپنے ماتحت افسران اور عملے کو لوگوں کی حفاظت کےلۓ کھڑا رکھا۔حالات کو بدلنے میں اہم رول ادا کرکے غیر ذمہ دارانہ پولیس افسران یا اہلکاروں کو بھی جواب دہ بنایا۔جس کی وجہ سے آج لوگ حالات خاص کر جموں و کشمیر پولیس کی محنت اور کوششوں کو سراہتے ہیں۔وہیں نشہ تسکروں کا بھی جینا حرام کر دیا گیا ہے۔جبکہ دہشت گردوں کی جائیداد کے ساتھ ساتھ اس نشہ تسکری کے کام میں ملوث افراد کی جائیداد بھی لگاتار ضبط کی جارہی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کشمیر کا ہر شہری اپنے آپ کو اب محفوظ محسوس کر رہا ہے۔
