تاوان کے لیے اغوا انجینئر کو پولیس نے بازیاب کروایا
نوادہ، 7 نومبر۔ 5 لاکھ روپے کے لیے اغوا کئے گئے مکینیکل انجینئر کو نوادہ پولیس نے منگل کے روزبحفاظت بازیاب کرا لیا ہے۔ پولیس مجرموں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری کر رہی ہے۔
معلومات کے مطابق نوادہ میں بے خوف اسکارپیو پر سوار اسلحہ سے لیس تین بدمعاشوں نے ایک میکنیکل انجینئر کو 2 نومبر کی شام شہر کی سدبھاونا چوک کے قریب سے اغواکرلیا تھا اور اس کے والد کو فون کرکے 5 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کی شکایت مغوی انجینئر کے والد نے ٹاؤن تھانہ کی پولیس سے کی تھی۔ ٹاؤن تھانہ کی پولیس نے مقدمہ درج کر کے مغوی انجینئر کی تلاش شروع کر دی۔
پولیس نے تکنیکی نگرانی کی مدد سے مغوی انجینئر کو گیا ضلع کے وزیر گنج تھانہ علاقے میں واقع وزیر گنج بائی پاس سے بحفاظت بازیاب کرا لیا۔ وہیں پولیس کے آنے کی خبر لگتے ہی تمام اغواکار موقع سے فرار ہوگئے۔ بازیاب کرائے گئے انجینئر محمد عرفات عالم عرف سونو ضلع کے کواکول تھانہ علاقہ کے بھلواہی گاؤں رہائشی محمد افتخار عالم کے بیٹے ہیں۔
واقعہ کے وقت انجینئر کولکاتا جانے کے لیے سدبھاونا چوک پہنچا تھا۔ اسی دوران بے خوف اسکارپیو سوار تین مسلح بدمعاشوں نے انجینئر کو اسلحہ کا خوف دکھا کر اسکارپیو پر بٹھا دیا اور چلنے لگے۔ انجینئر سونو کے مطابق بدمعاشوں نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اسے اٹاری تھانہ علاقہ کے کجر پہاڑ پر لے گئے۔ وہاں پر آنکھ سے پٹی ہٹا کر اسے اپنے والد سے 5لاکھ روپے کا مطالبہ کرنے کو کہا۔ ادھرپولیس کورٹ میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان کے بعد انجینئر کو بحفاظت اس کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
ایس پی امبریس راہل نے بتایا کہ شکایت کے بعد ٹاون تھانہ کے ایس آئی ابوذر حسین کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ تکنیکی نگرانی کی مدد سے پولیس ٹیم نے مغوی انجینئر سونو کو نوادہ پولیس نے 4 دن بعد آزاد کرالیا۔ گیا ضلع کے وزیر گنج میں اسے بائی پاس سے بحفاظت برآمد کر لیا گیا ہے۔ ٹاؤن تھانہ پولیس اغوا کاروں کی گرفتاری کے لیے چھا پہ ماری کر رہی ہے۔
