اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے عملے پر حملے میں حماس کی مدد کے الزام کے بعد کئی ممالک نے مالی امداد روک دی
واشنگٹن، 28 جنوری ۔ امریکہ سمیت کئی ممالک نے فلسطین میں پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ریلیف ورکس ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) کو دی جانے والی فنڈنگ (مالی امداد) روک دی ہے۔ دراصل اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اس ادارے کے 12 ملازمین نے گزشتہ سال 7 اکتوبر کو ملک میں کیے گئے حملے میں فلسطینی دہشت گرد تنظیم حماس کی مدد کی تھی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق جرمنی، برطانیہ اور کم از کم چار دیگر ممالک نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی شہریوں کو خوراک، پانی اور ضروری خدمات فراہم کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی کے لیے فنڈنگ روک دیں گے۔ اس سے قبل جمعہ کو امریکہ نے بھی ایسا ہی اعلان کیا تھا۔
اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے الزامات کے بعد اقوام متحدہ نے یو این آر ڈبلیو اے کے ان 12 ملازمین کو برطرف کر دیا ہے لیکن ان کی تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک سینئر اہلکار نے اسرائیل کے الزامات کو ’’انتہائی سنگین اور خوفناک‘‘ قرار دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی ریلیف ورکس ایجنسی کا قیام 1948 میں ہوا تھا۔ اسرائیل کے تازہ ترین الزامات کے بعد امریکہ، برطانیہ، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، فن لینڈ، کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی اور اٹلی نے اس ایجنسی کی مالی امداد روکنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ امریکہ ان الزامات سے سخت پریشان ہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے میں ایجنسی کے 12 ملازمین ملوث ہو سکتے ہیں۔
