بہار میں شراب بندی کے بعد سے اسمگلروں نے غیر قانونی شراب کی نقل و حمل کے نت نئے طریقے اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔ حال ہی میں نوادہ ضلع میں ایک معاملہ سامنے آیا جس میں اسمگلر مسافر بسوں کے ذریعے شراب کی اسمگلنگ کے لیے خالی بوتلیں، لیبل اور دیگر سامان لے جا رہے تھے۔ پولیس نے اس کارروائی کو بے نقاب کرتے ہوئے کئی افراد کو گرفتار کیا ہے۔
BulletsIn
- بہار میں شراب بندی کے بعد اسمگلروں نے مسافر بسوں کے ذریعے شراب کی اسمگلنگ کا نیا طریقہ اپنایا۔
- نوادہ ضلع کی رجولی پولیس نے کولکاتہ سے پٹنہ آنے والی ایک بس کی تلاشی کے دوران اس معاملے کا انکشاف کیا۔
- بس سے 1959 خالی شیشے کی بوتلیں اور 2974 خالی پلاسٹک کی بوتلیں برآمد ہوئیں۔
- 3008 بوتلوں کے ڈھکن، 3044 برانڈڈ شراب کے لیبل اور 2982 کیو آر کوڈ اسٹیکرز بھی ضبط کیے گئے۔
- اسمگلر پہلے خالی بوتلیں، لیبل اور دیگر سامان بھیجتے تھے اور بعد میں ان میں شراب ڈال کر بیچتے تھے۔
- پولیس نے بس کے دو ڈرائیوروں، فیروز عالم اور محمد محسن خان، اور خلاصی اروند سنگھ کو گرفتار کیا۔
- ملزمان نے اعتراف کیا کہ سامان پٹنہ کے پہاڑی علاقے کے بکنگ ایجنٹ سجن کمار کو پہنچایا جانا تھا۔
- یہ سامان کولکاتہ کے بابو گھاٹ بس اسٹینڈ سے بک کیا گیا تھا۔
- پولیس نے اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف بہار امتناعی اور آبکاری ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔
- شراب بندی کے باوجود ایسی غیر قانونی سرگرمیاں بہار حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔
