بہار کے دربھنگہ میونسپل کارپوریشن کی ڈپٹی میئر نازیہ حسن حالیہ دنوں ایک فیس بک پوسٹ کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ ان کی پوسٹ میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا موازنہ پاکستان سے کیا گیا، جس پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنان شدید مشتعل ہو گئے۔ اس معاملے نے نہ صرف سیاسی بلکہ سماجی سطح پر بھی کافی ہنگامہ برپا کیا، اور مقامی انتظامیہ کو مداخلت کرنی پڑی۔
BulletsIn
-
ڈپٹی میئر نازیہ حسن نے فیس بک پر آر ایس ایس کا موازنہ پاکستان سے کرتے ہوئے دونوں کو دو قوموں کے نظریے کا حامل قرار دیا۔
-
اس متنازعہ پوسٹ کے بعد بی جے پی اور ہندو تنظیموں کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا۔
-
مشتعل افراد نے میونسپل کارپوریشن آفس پہنچ کر ڈپٹی میئر کے دفتر میں ہنگامہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔
-
مظاہرین نے نازیہ حسن کا پتلا نذرِ آتش کیا اور انہیں دفتر میں یرغمال بھی بنایا گیا۔
-
نازیہ حسن نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کیا ہے اور یہ ان کا آئینی حق ہے۔
-
انہوں نے بتایا کہ کچھ کونسلروں نے ان سے شکایت کی کہ وہ بھی پارٹی کا حصہ ہیں، اس لیے ان کی عزت ہونی چاہیے۔
-
نازیہ حسن نے دعویٰ کیا کہ وہ کسی مذہب کے خلاف نہیں ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کرتی ہیں۔
-
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے ساتھ اس لیے ایسا سلوک کیا گیا کیونکہ وہ ایک مسلم خاتون ڈپٹی میئر ہیں۔
-
نازیہ حسن نے اگرچہ اپنے بیان پر معذرت کی، لیکن واضح کیا کہ وہ دل آزاری کی نیت سے کچھ نہیں لکھا تھا۔
-
پولیس اور اعلیٰ حکام نے موقع پر پہنچ کر حالات کو قابو میں کیا، جس کے بعد نازیہ نے اپنا متنازعہ پوسٹ ڈیلیٹ کر دیا اور عوام سے اپیل کی کہ ایسے بیانات پر توجہ نہ دیں۔
