کولکاتا، 13 جنوری (ہ س)۔ مغربی بنگال کے پرولیا میں تین سادھوؤں کی پٹائی کے تنازعہ کے بعد پولیس نے 12 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مقامی لوگوں نے اسے اغوا کار سمجھ کر اس پر حملہ کیا۔ پولیس موقع پر پہنچی اور سادھوؤں کو بھیڑ سے بچا کر قریبی تھانے لے گئی۔
پرولیا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھیجیت بنرجی نے واقعہ کے بارے میں کہا کہ سادھوؤں پر حملہ کرنے والے 12 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ واقعے میں ملوث دیگر افراد کی تلاش کے لیے بھی چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تمام گرفتار ملزمان کو پرولیا ضلع کی رگھوناتھ پور سب ڈویژنل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔پولیس نے یہ بھی بتایا کہ کچھ لڑکیاں جب سادھوؤں سے ڈر کر بھاگ گئیں تو مقامی لوگوں کو ان پر شبہ ہوا، جس کے بعد ہجوم نے ان پر حملہ کردیا۔ بعد میں پولیس نے سادھوؤں کو گنگا ساگر میلے میں لے جانے کے لیے گاڑی کا انتظام کیا۔
اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں مشتعل ہجوم سادھوؤں کی گاڑی کی توڑ پھوڑ کرتے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ واقعہ جمعرات کو پیش آیا۔
واقعہ کے تعلق سے مغربی بنگال بی جے پی نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بناتے ہوئے اس واقعہ کی تنقید کی ہے۔ بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امیت مالویہ نے ٹویٹر پر لکھا، پالگھر جیسا لنچنگ کا واقعہ مغربی بنگال کے پرولیا میں پیش آیا ہے۔ مکر سنکرانتی کے لیے گنگا ساگر جانے والے سادھوؤں کو حکمراں ٹی ایم سی سے وابستہ لوگوں نے روک لیا اور مارا پیٹا۔ ممتا بنرجی کے دور حکومت میں شاہجہاں شیخ کو سرکاری تحفظ حاصل ہے اور سادھوؤں کو مارا جا رہا ہے۔ مغربی بنگال میں ہندو ہونا جرم بن گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
