پربھنی
، 3 اکتوبر(ہ س)۔
ضلع پربھنی کے تعلقہ گنگا کھیڑ کے گاؤں کھالی میں ستمبر کے دوران شدید
بارش اور دریائے گوڈا کے بپھرے سیلاب نے تباہی مچائی۔ پکی پلاٹ اور سوڈے پر پل
ڈوبنے سے گاؤں بالکل الگ تھلگ ہو گیا۔ ایسے میں گنگا کھیڑ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کے
ارکان اور میڈیکل افسران نے مشکل حالات میں گاؤں پہنچ کر متاثرین کو علاج فراہم کیا۔
مہاتما
گاندھی جینتی کے موقع پر کھالی میں خصوصی ہیلتھ کیمپ منعقد ہوا جسے ڈاکٹروں کی
سماجی وابستگی کی بہترین مثال قرار دیا گیا۔ کیمپ میں صدر ڈاکٹر کے پی گارولے
(ماہر امراض معدہ)، ڈاکٹر منیش بیانی (دانتوں کے ماہر)، ڈاکٹر شری ہری داپسے (ماہر
اطفال)، ڈاکٹر فیروز شیخ (ماہر امراض جلد)، ڈاکٹر مہیش شندے (ماہر امراض نسواں)،
ڈاکٹر امیت اوگلے (ماہر امراض کان، ناک و گلا) کے علاوہ ڈاکٹر کشور کگانے، ڈاکٹر
بالاصاحب منکر، ڈاکٹر کلیم خان، ڈاکٹر رتیش وٹاموار، ڈاکٹر بھرت بھوسلے، ڈاکٹر گیانوبا
ٹورنر اور ڈاکٹر انیل باروے شریک رہے۔
کیمپ کے
انعقاد میں تکنیکی عملے کا بھی نمایاں تعاون رہا، جن میں ماولی کاروار، پوار صاحب،
رامبھاؤ ، اشتائی سونار، منداکنی سونار اور دیگر رضاکار شامل
تھے۔
معائنہ
کے دوران ذیابیطس، بلڈ پریشر، خواتین کے امراض، بخار، نزلہ، کھانسی، ہڈیوں و جوڑوں
کے امراض کے مریض زیادہ دیکھے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 550 مریضوں
کا معائنہ کیا گیا، جن میں پیٹ کے امراض کے 75، جنرل میڈیسن کے 200، امراض نسواں
کے 50، ہڈیوں کے 60، جلد کے 50، کان ناک گلے کے 40 اور بچوں کے 50 مریض شامل تھے۔
کیمپ کے
بعد دیہی عوام نے ڈاکٹروں اور ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر کے پی گارولے کو گلدستے پیش
کر کے شکریہ ادا کیا۔ اسی دوران کھالی گاؤں کے صحت کے سفیر دنیشور گھلیشور
کو بھی اعزاز سے نوازا گیا۔ اس اقدام نے سیلاب متاثرین کو زبردست راحت پہنچائی اور
گنگا کھیڈ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کی سماجی خدمت کو وسیع پذیرائی حاصل ہوئی۔
ہندوستھان
سماچار
——————–
ہندوستان سماچار / جاوید این اے
