نئی دہلی، 9 جنوری 2026
دہلی قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر Vijender Gupta نے جمعہ کے روز ایوان میں قومی ترانے کی حیثیت رکھنے والے ’وندے ماترم‘ کے 150ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی روح اور مادرِ وطن کے لیے محبت اور قربانی کی لازوال علامت ہے۔
ایوان سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ یہ بحث فخر اور مسرت کے ایک خصوصی موقع پر ہو رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دہلی اسمبلی کی ہر نشست کا آغاز ’وندے ماترم‘ کے گانے سے کرنے کی ایک طویل روایت رہی ہے، تاہم اب تک روایت کے مطابق ترانے کے صرف ابتدائی دو بند ہی گائے جاتے رہے ہیں۔
اسپیکر نے نشاندہی کی کہ رواں سال ایک غیر معمولی اور تاریخی موقع فراہم ہوا ہے، کیونکہ 1875 میں Bankim Chandra Chattopadhyay کی تخلیق کردہ لازوال نظم Vande Mataram نے اپنے 150 سال مکمل کر لیے ہیں۔ انہوں نے کہا، “وندے ماترم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ہماری آزادی کی تحریک کی روح، لاکھوں محبِ وطن افراد کے لیے تحریک کا سرچشمہ اور مادرِ وطن سے غیر متزلزل وابستگی کا طاقتور اظہار ہے۔”
آزادی کی جدوجہد میں اس ترانے کے کردار کو یاد کرتے ہوئے وجیندر گپتا نے کہا کہ ’وندے ماترم‘ نے قومی شعور کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بنگال کی تقسیم کے خلاف تحریک کے دوران یہ ترانہ عوام کی زبان پر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے اسلاف نے برطانوی راج کے دوران لاٹھیاں اور گولیاں برداشت کرتے ہوئے، قید و بند کی صعوبتیں جھیلتے ہوئے اور حتیٰ کہ تختۂ دار کو گلے لگاتے وقت بھی فخر اور جرات کے ساتھ ’وندے ماترم‘ گایا۔
اسمبلی کی تاریخی وراثت کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا کہ تقریباً 112 برس قبل اسی ایوان میں ’وندے ماترم‘ کے فلک شگاف نعرے لگے تھے اور ’سائمن کمیشن گو بیک‘ کی قرارداد منظور کی گئی تھی۔ یہ واقعہ اس قدر شدید تھا کہ روایات کے مطابق ایک برطانوی افسر ایوان کے اندر ہی بے ہوش ہو گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ لمحات آج بھی قوم کی اجتماعی یادداشت میں مزاحمت اور حوصلے کی علامت کے طور پر محفوظ ہیں۔
150ویں یومِ تاسیس کے پیشِ نظر اسپیکر نے تجویز پیش کی کہ اس سال Delhi Legislative Assembly میں محض دو بندوں تک محدود رہنے کے بجائے ’وندے ماترم‘ مکمل طور پر گایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اُن بے شمار مجاہدینِ آزادی کے لیے سچی خراجِ عقیدت ہوگی جنہوں نے اس ترانے کو دل میں بسایا اور ملک کے لیے سب کچھ قربان کر دیا۔
اسپیکر نے یقین ظاہر کیا کہ ایوان اس تجویز کی متفقہ طور پر حمایت کرے گا اور ’وندے ماترم‘ کے 150ویں یومِ تاسیس کی تقریبات دہلی اسمبلی کی تاریخ میں یادگار بنیں گی۔
انہوں نے اسمبلی سیکریٹریٹ کو یہ بھی ہدایت دی کہ تمام اراکین کے ڈیسک ٹاپس اور آئی پیڈز پر ’وندے ماترم‘ کا مکمل متن فراہم کیا جائے تاکہ پہلی نشست کے دوران پورا ایوان مل کر مکمل ترانہ گا سکے۔
بیان کے اختتام پر وجیندر گپتا نے کہا کہ اس تاریخی ایوان میں ’وندے ماترم‘ کے 150ویں یومِ تاسیس کی یاد منانا ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے لیے اسمبلی کے احترام کا اعادہ کرے گا اور اس ترانے کی دائمی وراثت کو خراج پیش کرے گا جس نے نسل در نسل لوگوں کو آزادی کے لیے جدوجہد کی تحریک دی۔
