نویدا کے الیکٹرانک سٹی میٹرو اسٹیشن پر ایک المناک واقعہ نے اسٹیشن کے سیڑھیوں سے چھلانگ لگا کر ایک شخص کی موت کے بعد خوف و ہراس پھیلا دیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، شخص زخمی ہونے کے بعد شدید چوٹیں لگنے کے بعد اس جگہ پر ہی دم توڑ گیا۔ اس واقعے نے مسافروں اور میٹرو عملے کے درمیان عارضی طور پر ہنگامہ آرائی مچا دی، جس کے نتیجے میں پولیس اور ایمرجنسی ٹیموں نے فوری مداخلت کی۔
عہدیداروں نے بتایا کہ اب تک متوفی کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ اس کے ساتھ کوئی موبائل فون، شناختی دستاویزات یا ذاتی سامان نہیں ملا، جس کی وجہ سے شناخت کا عمل مشکل ہو گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، مرد ذہنی طور پر پریشان نظر آ رہا تھا اور واقعے کے وقت پرانے اور گندے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔
عہدیداروں نے تحقیقات کا آغاز کیا ہے اور متوفی کی شناخت کے لیے لاپتہ افراد کے ریکارڈ اور قریبی پولیس اسٹیشن کے ڈیٹا بیس کی جانچ کر رہے ہیں۔
*میٹرو اسٹیشن پر ہنگامہ آرائی اور بھیڑ*
اس واقعے نے میٹرو اسٹیشن کے اندر ہنگامہ آرائی مچا دی جب مسافر اور عملہ مردہ گرنے کے بعد سیڑھیوں کی طرف بھاگا۔ گواہوں نے بتایا کہ شخص اچانک سیڑھیوں کی طرف بڑھا اور کچھ لمحوں بعد گرنے کے بعد گر پڑا۔
میٹرو سیکیورٹی اہلکاروں اور اسٹیشن عملے نے فوری طور پر رد عمل کا اظہار کیا اور ایمرجنسی جواب دہندگان کی آمد سے پہلے زخمی شخص کی مدد کی کوشش کی۔ زخموں کی سنگینی کی وجہ سے، وہ بچ نہیں سکا۔
واقعے کے بعد کچھ دیر کے لیے اسٹیشن میں بھاری بھیڑ دیکھنے کو ملی جب پولیس ٹیموں نے علاقے کو محفوظ بنایا اور گواہوں سے معلومات اکٹھا کرنا شروع کیں۔
پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی ریکارڈز کی جانچ کر رہی ہے
پولیس عہدیداروں کا اندازہ ہے کہ متوفی کی عمری 35 سے 45 سال کے درمیان ہے۔ چونکہ کوئی شناختی دستاویزات یا الیکٹرانک آلات برآمد نہیں ہوئے، تحقیقاتی اہلکار سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی انکوائری پر ان کی شناخت کا پتہ لگانے کے لیے انحصار کر رہے ہیں۔
عہدیدار میٹرو اسٹیشن کی نگرانی کی فوٹیج کی جانچ کر رہے ہیں تاکہ واقعے سے پہلے مرد کے تحرکات کو سمجھا جا سکے۔ تحقیقاتی اہلکار یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا وہ کچھ عرصے سے اس علاقے میں موجود تھا یا اسٹیشن پر حال ہی میں پہنچا تھا۔
پولیس ٹیمیں قریبی علاقوں میں انکوائری کر رہی ہیں اور متوفی کی شناخت میں مدد کے لیے مقامی پولیس اسٹیشنوں کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔
ذہنی صحت کے پہلو کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں
初لاطے انکوائری کے دوران، عہدیداروں نے اشارہ کیا کہ مرد واقعے سے پہلے اپنی حالت اور поведار کے आधار پر ذہنی طور پر غیر مستحکم یا پریشان نظر آ رہا تھا۔ تاہم، پولیس نے اس کی ذہنی صحت کے بارے میں کوئی سرکاری تصدیق جاری نہیں کی ہے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ واقعے کے حوالے سے صحیح حالات تو اس کے بعد ہی واضح ہوں گے جب پوسٹ مارٹم کے نتائج اور مزید تحقیقات مکمل ہو جائیں گی۔ پولیس اس معاملے سے متعلق تمام ممکنہ پہلوؤں کی جانچ کر رہی ہے۔
میٹرو کی حفاظتی نگرانی پر سوال اٹھائے گئے
اس واقعے نے میٹرو اسٹیشنوں پر حفاظتی نگرانی اور نگرانی کے نظاموں کے گرد مباحثے کو ایک بار پھر جنم دیا ہے۔ مسافروں کا خیال ہے کہ بھیڑ بھرے اسٹیشنوں پر بھیڑ کے انتظام اور سیکیورٹی کی نگرانی کو مضبوط بنایا جانا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔
ماہرین نے بھی بھیڑ بھرے عوامی مقامات پر ذہنی دباؤ کے آثار دکھانے والے افراد کے لیے بہتر عوامی امدادی نظام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ میٹرو عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو ہنگامی نفسیاتی حالات سے نمٹنے کے لیے اضافی تربیت دینے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
فی الحال، پولیس متوفی کی شناخت اور واقعے کے لیے مکمل واقعات کی ترتیب کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تحقیقات اور پوسٹ مارٹم کے عمل کے مکمل ہونے کے بعد ہی آگے کا کوئی عمل کیا جائے گا۔
