اکتوبر 2025 سے متحدہ عرب امارات (UAE) میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے ایک نیا قانون نافذ کیا گیا ہے۔ اس قانون کے تحت، اگر کوئی شخص UAE میں موجود ہو اور کسی برانڈ، پروڈکٹ یا سروس کی پروموشن کرتا ہے — چاہے اسے اس کے بدلے میں رقم ملی ہو یا نہ ملی ہو، یا وہ چیز تحفے میں ملی ہو — تو اسے ایک سرکاری “اشتہاری اجازت نامہ (Advertiser Permit)” حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ یہ قانون صرف رہائشیوں پر نہیں بلکہ سیاحوں، وزٹنگ کریئیٹرز اور خاص طور پر بھارتی انفلوئنسرز پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ذیل میں اس قانون کے 10 اہم نکات دیے گئے ہیں:
BulletsIn
-
اشتہاری پرمٹ لازمی ہے
اکتوبر 2025 سے UAE میں کسی بھی پروموشنل مواد کو شائع کرنے سے پہلے سرکاری اجازت نامہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ -
ادائیگی ہو یا نہ ہو، پروموشن تصور ہوگا
چاہے کوئی چیز مفت ملی ہو، یا صرف کسی برانڈ کو ٹیگ کیا گیا ہو، یہ بھی اشتہار میں شمار ہوگا۔ -
سیاح بھی مستثنیٰ نہیں ہیں
اگر آپ UAE کے وزیٹر ہیں اور پروموشنل مواد بنانا چاہتے ہیں، تو آپ کو تین ماہ کا عارضی پرمٹ لینا ہوگا۔ -
درخواست صرف منظور شدہ مقامی ایجنسی کے ذریعے دی جا سکتی ہے
غیر مقیم کریئیٹرز کو UAE کی منظور شدہ کانٹینٹ ایجنسی کے ذریعے پرمٹ کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ -
اپنے کاروبار کی پروموشن پر پرمٹ لازم نہیں
اگر آپ صرف اپنا ذاتی برانڈ یا سروس پروموٹ کر رہے ہیں تو پرمٹ کی ضرورت نہیں، لیکن اگر کسی اور کا ذکر یا ٹیگ ہے تو پرمٹ ضروری ہے۔ -
قانون کا مقصد
جعلی پروموشنز، اسکیمز اور صارفین کو گمراہ کرنے والے مواد کی روک تھام اور شفافیت و پیشہ ورانہ رویے کو فروغ دینا ہے۔ -
دیگر ممالک سے موازنہ
امریکہ، برطانیہ، یورپ اور بھارت میں صرف ڈسکلوزر (#Ad وغیرہ) ضروری ہے، لیکن UAE پہلا ملک ہے جہاں باقاعدہ سرکاری اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔ -
بھارتی کریئیٹرز کے لیے خصوصی ہدایت
جو بھارتی کریئیٹرز دبئی میں برانڈز کے ساتھ کام کرتے ہیں، ان کے لیے یہ پرمٹ لینا ضروری ہے تاکہ وہ جرمانے یا پابندی سے بچ سکیں۔ -
پیشہ ورانہ رویہ اختیار کریں
ہر برانڈ ڈیل کے لیے معاہدہ، مالی ریکارڈ، اور قانونی دستاویزات مرتب کریں اور اپنے مواد کو بزنس کی طرح منظم کریں۔ -
ذمہ داری اور شفافیت کی جانب قدم
یہ قانون پابندی کے لیے نہیں بلکہ ایک صاف، منظم اور قابلِ اعتماد انفلوئنسر انڈسٹری کے قیام کی طرف قدم ہے۔
