ذرا تصور کریں کہ آپ دبئی میں کسی چھت پر بیٹھے حسین نظارہ دیکھ رہے ہیں، ہاتھ میں ٹھنڈا مشروب ہے، اور ایک انسٹاگرام ریل ریکارڈ کر رہے ہیں تاکہ اس سکن کیئر برانڈ کا شکریہ ادا کر سکیں جس نے آپ کو ایک تحفہ بھیجا تھا۔ آپ برانڈ کو ٹیگ کرتے ہیں، ایک مزاحیہ کیپشن لکھتے ہیں، اور پوسٹ کر دیتے ہیں۔ مگر یقین کریں یا نہ کریں، آپ شاید ابھی قانون کی خلاف ورزی کر بیٹھے ہوں۔ اکتوبر 2025 سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایک نیا قانونی ضابطہ متعارف کروایا ہے: اب ہر سوشل میڈیا انفلوئنسر یا مواد تخلیق کرنے والے کو، جو کسی برانڈ، پروڈکٹ یا سروس کی پروموشن یو اے ای میں رہتے ہوئے کرے، پہلے باقاعدہ “ایڈورٹائزر پرمٹ” حاصل کرنا ہوگا۔ یہ قانون اس صورت میں بھی لاگو ہوتا ہے جب اس پروموشن کے بدلے میں کوئی پیسے نہ مل رہے ہوں۔ صرف برانڈ کو ٹیگ کرنا یا مفت ملے ہوئے پروڈکٹ کو پروموشنل انداز میں دکھانا بھی اشتہار کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ نیا قانون عالمی کریئیٹر معیشت کے لیے ایک اہم موڑ ہے۔ اس کا اطلاق صرف یو اے ای کے رہائشیوں پر نہیں بلکہ سیاحوں، وزٹنگ انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل نومیڈز پر بھی ہوتا ہے۔ خاص طور پر بھارتی کریئیٹرز کے لیے جو دبئی میں برانڈز کے ساتھ کام کرتے ہیں یا اکثر سفر کرتے ہیں، یہ قانون جاننا اور اس کی پیروی کرنا نہایت ضروری ہے۔ جولائی 2025 میں یو اے ای حکومت نے ایک قانون متعارف کروایا، جس کے تحت ہر اس فرد کو جو کسی برانڈ، پروڈکٹ یا سروس کو پروموٹ کرتا ہے، اور اس وقت یو اے ای میں موجود ہو، “ایڈورٹائزر پرمٹ” حاصل کرنا ہوگا۔ چاہے آپ کو کوئی معاوضہ ملے یا نہ ملے، مفت کولیبریشنز یا تحفے بھی اس قانون کے دائرے میں آتے ہیں۔ سیاحوں اور وزٹنگ انفلوئنسرز کو بھی اس سے استثنا حاصل نہیں ہے۔ اگر آپ دبئی میں موجود ہیں اور برانڈ پروموشن کا مواد پوسٹ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک “عارضی ایڈورٹائزر پرمٹ” حاصل کرنا ہوگا جو تین مہینوں کے لیے مؤثر ہوتا ہے اور ایک بار تجدید ہو سکتا ہے۔ یہ پرمٹ یو اے ای کی کسی رجسٹرڈ ایجنسی کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ چند مستثنیات بھی موجود ہیں۔ اگر آپ اپنی ذاتی سروس، پروڈکٹ یا بزنس کی تشہیر کر رہے ہیں تو پرمٹ کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح اگر آپ کا مواد صرف تعلیمی یا ثقافتی ہو اور کسی برانڈ کی پروموشن نہ کرتا ہو، تو ممکن ہے اجازت نامہ نہ درکار ہو۔ رہائشی افراد کو یہ پرمٹ “یو اے ای میڈیا ریگولیٹری آفس” کے ذریعے حاصل کرنا ہوگا، جبکہ سیاحوں کو منظوری یافتہ ایجنسی کے ذریعے ہی درخواست دینی ہوگی۔ درخواست دینے کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیلات اور پروموشنل مواد کی نوعیت درج کروانی ہوگی۔ یہ قانون کیوں متعارف کروایا گیا؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں جعلی پروموشنز اور سوشل میڈیا پر فراڈ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ دھوکہ باز Emirates Airline کے نمائندے بن کر جعلی ٹکٹ گِو اوے چلا رہے تھے، جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ حتیٰ کہ Emirates نے اپنی سوشل میڈیا پر تشہیر کو وقتی طور پر بند بھی کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ، انفلوئنسر مارکیٹنگ ایک اربوں ڈالر کی انڈسٹری بن چکی ہے، مگر کئی انفلوئنسرز بغیر کسی ضابطے اور شفافیت کے کام کر رہے ہیں۔ یو اے ای چاہتا ہے کہ اس فیلڈ کو پروفیشنل سطح پر لے جایا جائے جہاں ہر کوئی اپنے مواد کے لیے ذمہ دار ہو۔ صارفین کا تحفظ بھی اس قانون کی ایک اہم وجہ ہے۔ جب انفلوئنسر کسی پروڈکٹ کو اشتہار قرار دیے بغیر پروموٹ کرتا ہے تو یہ صارف کو گمراہ کر سکتا ہے۔ عوام یہ سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ذاتی رائے ہے، حالانکہ درحقیقت یہ ایک اسپانسرڈ پوسٹ ہوتی ہے۔ اس نظام سے یہ بھی ممکن ہوگا کہ اشتہار اور ذاتی رائے میں واضح فرق ہو، اور شفافیت کو فروغ ملے۔ حکومت چاہتی ہے کہ میڈیا اور اشتہارات کے لیے ایک اعلیٰ معیار قائم ہو۔ انفلوئنسرز پر وہی قوانین لاگو کیے جا رہے ہیں جو روایتی میڈیا پر ہوتے ہیں، تاکہ میدان کو برابر کیا جا سکے۔ یہ پرمٹ سسٹم نہ صرف انفلوئنسرز بلکہ برانڈز اور ایجنسیز پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے، جو کہ شفافیت اور ذمہ داری کو فروغ دیتا ہے۔ اگر ہم دیگر ممالک سے موازنہ کریں تو برطانیہ میں Advertising Standards Authority (ASA) انفلوئنسرز سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ #Ad یا #Sponsored جیسے ٹیگ استعمال کریں تاکہ اشتہار واضح ہو۔ امریکا میں Federal Trade Commission (FTC) اس بات کی پابندی لگاتی ہے کہ “Paid Partnership with @brand” جیسے واضح الفاظ استعمال کیے جائیں۔ وہاں کوئی پرمٹ کا سسٹم نہیں، مگر خلاف ورزی پر بھاری جرمانے لگ سکتے ہیں۔ یورپی ممالک جیسے فرانس، جرمنی، اور اٹلی میں بھی اشتہار کو واضح کرنا ضروری ہے، ورنہ قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ بھارت میں Advertising Standards Council of India (ASCI) نے 2021 میں رہنما اصول جاری کیے جن کے مطابق #Ad، #PaidPromo، یا #Collab جیسے لیبل کا استعمال ضروری ہے۔ لیکن ان پر عمل درآمد اب بھی مغربی ممالک کی نسبت کمزور ہے۔ یو اے ای کا ماڈل سب سے مختلف ہے کیونکہ وہ پوسٹ کرنے سے پہلے سرکاری اجازت نامے کی شرط عائد کرتا ہے۔ یہ محض انکشاف (disclosure) کی بات نہیں بلکہ مکمل لائسنسنگ سسٹم ہے۔ بھارتی کریئیٹرز جو دبئی کا سفر کرتے ہیں، یا دبئی کی برانڈز کے ساتھ کام کرتے ہیں، اُنہیں یہ جان لینا چاہیے کہ اگر وہ کسی بھی قسم کا برانڈ، ہوٹل، کھانے پینے کی چیز، یا سروس کا تذکرہ کرتے ہیں تو انہیں یہ اجازت نامہ لینا ضروری ہے، چاہے وہ چیز مفت ملی ہو۔ اگر وہ صرف اپنے بزنس یا برانڈ کی پروموشن کر رہے ہیں تو ہو سکتا ہے پرمٹ کی ضرورت نہ ہو، لیکن جیسے ہی کسی تیسرے فریق کو ٹیگ کریں گے، یہ قانون لاگو ہو جائے گا۔ لہٰذا، بھارتی کریئیٹرز کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی تجربہ کار ایجنسی یا قانونی ماہر کے ساتھ کام کریں جو یو اے ای کے میڈیا قوانین سے واقف ہو۔ آگے کی منصوبہ بندی کریں، پرمٹ حاصل کریں، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور قوانین کی مکمل پاسداری کریں تاکہ کسی جرمانے یا پابندی سے بچا جا سکے۔ مزید برآں، یہ قانون انفلوئنسرز کے لیے ایک موقع بھی ہے کہ وہ اپنے کام کو سنجیدگی سے لیں اور اسے ایک پیشہ ور کاروبار کی طرح چلائیں۔ جو کریئیٹرز شفاف اور ذمہ دار ہوں گے، وہی طویل مدتی کامیابی حاصل کریں گے۔ 2025 میں ایک ذمہ دار اور قانونی کریئیٹر بننے کے لیے آپ درج ذیل اقدامات اختیار کر سکتے ہیں: ہر اس ملک کے قوانین سے باخبر رہیں جہاں آپ کا ناظرین موجود ہے۔ بھارت کے لیے ASCI، امریکہ کے لیے FTC، برطانیہ کے لیے ASA، اور یو اے ای کے لیے Media Regulatory Office کی ویب سائٹس پر نظر رکھیں۔ اپنے مواد کو ایک بزنس کی طرح منظم کریں، فنانشل ریکارڈ رکھیں، معاہدے کریں، اور انکم پر مناسب ٹیکس ادا کریں۔ ہر برانڈ کولیب کے لیے تحریری معاہدہ کریں جس میں تمام شرائط، ڈیڈلائن، ادائیگی، اور قانونی ذمہ داریاں شامل ہوں۔ Canva Pro، Buffer، CapCut Pro، Notion جیسے ٹولز کا استعمال کریں، اور مالی یا قانونی مدد کے لیے ClearTax یا LegalRaasta جیسے پلیٹ فارم کا سہارا لیں۔ سب سے اہم بات: اپنی آڈینس کے ساتھ ہمیشہ شفاف رہیں۔ بتائیں کہ کونسی پوسٹ اسپانسرڈ ہے، کونسا پروڈکٹ تحفے میں ملا ہے، یا کونسی کولیب ہے۔ اعتماد ہی وہ بنیاد ہے جس پر کامیاب کریئیٹرز کا مستقبل کھڑا ہے۔ یو اے ای کا نیا قانون سخت ضرور لگ سکتا ہے، مگر یہ دراصل بڑھتی ہوئی عالمی تبدیلی کا حصہ ہے جو ذمہ داری، پیشہ ورانہ اخلاقیات اور صارفین کے تحفظ کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ یہ قانون کریئیٹرز کو خاموش کرنے کے لیے نہیں بلکہ انہیں بہتر بنانے، جھوٹے اشتہارات سے روکنے اور پورے نظام کو شفاف بنانے کے لیے ہے۔ یہ ایک انتباہ بھی ہے کہ اب صرف لائکس اور فالورز کافی نہیں۔ ایک کامیاب کریئیٹر وہی ہوگا جو پیشہ ور، قانونی، اور ذمہ دار ہوگا۔ اہم ذرائع اور لنکس:
-
یو اے ای انفلوئنسر پرمٹ کے لیے اپلائی کریں: https://www.mcy.gov.ae/
-
ASCI انڈیا کی رہنما ہدایات: https://ascionline.in/
-
FTC امریکہ کے اصول: https://www.ftc.gov
-
قانونی دستاویزات اور معاہدے: https://www.legalraasta.com/
-
آن لائن کانٹریکٹ ٹیمپلیٹس: https://www.docracy.com
