نئی دہلی، 08 جنوری (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے بلقیس بانو معاملے کے قصورواروں کو وقت سے پہلے رہا کرنے کے گجرات حکومت کے فیصلے کو منسوخ کردیا۔ جسٹس بی وی ناگرتنا کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ گجرات حکومت کو نہیں،بلکہ مہاراشٹر حکومت کو رہائی سے متعلق فیصلہ لینے کا حق ہے۔ جرم خواہ گجرات میں ہوا ہو، لیکن مہاراشٹر میں ٹرائل چلنے کی وجہ سے فیصلہ لینے کا اختیار گجرات حکومت کے پاس ہے۔
سپریم کورٹ نے 12 اکتوبر 2023 کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ہم استثنیٰ کی پالیسی پر سوال نہیں اٹھا رہے ہیں بلکہ صرف ان لوگوں کو دی گئی چھوٹ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ سماعت کے دوران، سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ لوتھرا نے مجرموں کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا تھا کہ عمر قید کی سزا پانے والے ہر فرد کو اصلاح کا موقع دیا جاتا ہے تو جرم گھناونا ہونے کی بنیاد پر اصلاحات کو نہیں روکا جا سکتا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ہم دوسرے سوال پر ہیں کہ استثنیٰ دینا درست ہے یا نہیں۔ ہم معافی کے تصور جوقابل قبول ہے ، اس کو سمجھتے ہیں لیکن یہاں ہمارا سوال سزا کی مقدار پر نہیں ہے۔ ہم پہلی بار استثنیٰ کے معاملے سے نمٹ نہیں رہے ہیں۔ اس کے بعد لوتھرا نے کہا کہ 15 سال کی حراست کی زندگی ، پوری طرح سے کٹی ہوئی زندگی ہے۔
گزشتہ 24 اگست 2023 کو عدالت نے گجرات حکومت سے پوچھا تھا کہ اتھارٹی نے مجرموں کی رہائی پر آزادانہ صوابدید کا استعمال کس طرح کیا۔ اتھارٹی آخرکار رہائی پر اتفاق رائے تک کیسے پہنچی؟ 17 اگست 2023 کو عدالت نے گجرات حکومت سے سخت لہجے میں پوچھا تھا کہ رہائی کی اس پالیسی کا فائدہ صرف بلقیس کے مجرموں کو کیوں دیا گیا؟ جیل قیدیوں سے بھری پڑی ہے۔ باقی مجرموں کو ایسا بہتری کا موقع کیوں نہیں دیا گیا؟ عدالت نے گجرات حکومت سے پوچھا تھا کہ نئی پالیسی کے تحت کتنے مجرموں کو رہا کیا گیا؟ بلقیس کے مجرموں کے لیے مشاورتی کمیٹی کس بنیاد پر بنائی گئی؟ جب گودھرا عدالت میں کیس کی سماعت نہیں ہوئی تو پھر وہاں کے جج سے رائے کیوں مانگی گئی؟ 9 اگست کو بلقیس کی جانب سے کہا گیا کہ قواعد کے تحت انہیں اس جج سے رائے لینا ہوگی جس نے انہیں سزا سنائی۔ جس میں مجرم قرار دینے والے مہاراشٹر کےجج نے کہا تھا کہ مجرموں کو استثنیٰ نہیں دیا جانا چاہیے۔
دسمبر 2022 میں سپریم کورٹ نے بلقیس بانو کے مجرموں کی رہائی سے متعلق کیس میں دائر بلقیس کی نظرثانی کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ بلقیس بانو کی نظرثانی درخواست میں مطالبہ کیا گیا کہ 13 مئی 2022 کے حکم پر نظر ثانی کی جائے۔ 13 مئی 2022 کے حکم میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ گینگ ریپ کے مجرموں کی رہائی میں 1992 میں بنائے گئے قوانین لاگو ہوں گے۔ اس بنیاد پر 11 مجرموں کو رہا کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
SC cancels decision to release convicts in Bilkis case
