مغربی سنگھ بھوم (چائباسا) کے منوہر پور کے ترترا گاؤں میں غم کی ایک دل دہلا دینے والی کہانی سامنے آئی ہے۔ ایک نوجوان میرین انجینئر اہلاد نندن مہتو، جو سمندر میں اپنے خواب پورے کرنے نکلا تھا، بدقسمتی سے ایران کے چراک بندرگاہ پر پیش آئے حادثے میں جان کی بازی ہار گیا۔ ایک ماہ کے طویل انتظار کے بعد جب اس کی لاش گاؤں لائی گئی تو تابوت کھلتے ہی سب کچھ بدل گیا—اس کے بجائے کسی اور کی لاش نکلی۔ یہ واقعہ نہ صرف اہلاد کے خاندان بلکہ پورے گاؤں کو صدمے سے دوچار کر گیا ہے۔
BulletsIn
-
اہلاد نندن مہتو، ترترا گاؤں کا نوجوان، ایران کے چراک بندرگاہ پر 27 مارچ کو حادثے میں جاں بحق ہوا۔
-
ایک ماہ کے بعد اس کی لاش خصوصی طیارے کے ذریعے کولکاتا پہنچائی گئی اور پھر گاؤں لائی گئی۔
-
گاؤں میں تابوت کھلنے پر اہلاد کے بجائے جونپور (یوپی) کے نوجوان شیویندر پرتاپ سنگھ کی لاش نکلی۔
-
یہ دیکھ کر اہلاد کا خاندان اور گاؤں والے شدید صدمے اور غصے میں آ گئے۔
-
اہلاد کی آخری جھلک دیکھنے کی امید میں ترسی آنکھوں کو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔
-
اہلاد کے بھائی راگھونندن مہتو نے بتایا کہ کولکاتا میں حکام نے انہیں لاش کی درستگی کا یقین دلایا تھا۔
-
تابوت پر نام اور ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے دیا گیا سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا۔
-
مقامی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے شیویندر کی لاش کو ریلوے ہسپتال کے کولڈ اسٹوریج میں منتقل کیا۔
-
شیویندر پرتاپ سنگھ کے اہل خانہ کو لاش حوالے کرنے کے لیے یوپی سے بلایا جا رہا ہے۔
-
اہلاد کے اہل خانہ کو اب دوبارہ کولکاتا جانا ہوگا تاکہ صحیح لاش کی واپسی ممکن ہو سکے۔
