مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے 22 مارچ کو کولکتہ کے ریڈ روڈ پر عید کے ایک اجتماع کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ براہ راست سیاسی محاذ آرائی میں بدلنے کے لیے استعمال کیا، جہاں انہوں نے مودی پر مسلمانوں کے معاملے میں منافقت کا الزام لگایا اور ووٹر لسٹ کی سیاست کے تناظر میں انہیں “سب سے بڑا درانداز” قرار دیا۔ ان کے یہ ریمارکس بنگال میں انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے گہرا تعلق رکھتے تھے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو ریاستی انتخابات سے قبل پہلے ہی سب سے زیادہ متنازع مسائل میں سے ایک بن چکا ہے۔ اس تنازع کو ووٹنگ کے حقوق، جمہوری شمولیت اور بنگال کے سماجی تانے بانے کے تحفظ کی جنگ کے طور پر پیش کرتے ہوئے، ممتا صرف بی جے پی پر لفظی حملہ نہیں کر رہی تھیں؛ وہ ووٹر لسٹ پر انتظامی تشویش کو اخراج اور مزاحمت کے ایک وسیع تر سیاسی بیانیے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ تقریب کی رپورٹس کے مطابق، انہوں نے سامعین کو بتایا کہ بہت سے نام حذف کر دیے گئے ہیں اور انہوں نے اس معاملے پر کلکتہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
ممتا بنرجی نے ووٹر لسٹ تنازع کو وسیع تر سیاسی پیغام میں ڈھال دیا
ممتا بنرجی کی مداخلت اس لیے اہمیت رکھتی ہے کیونکہ انتخابی فہرستوں پر تنازع اب نظرثانی اور جانچ کا محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں رہا۔ یہ بنگال میں ایک مرکزی سیاسی میدان جنگ بن چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کا SIR عمل ایک وسیع تر مشق کا حصہ ہے جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد انتخابی فہرستوں کی پاکیزگی اور درستگی کو مضبوط بنانا ہے، جس میں نقل، منتقل شدہ، مردہ یا نااہل اندراجات کی نشاندہی کی جاتی ہے، اور اس نظام میں اپیل اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار شامل ہیں۔ ECI کی SIR پر اپنی پیشکش میں کہا گیا ہے کہ ایسی نظرثانی قانونی طور پر درست ہیں اور ان کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی اہل شہری چھوٹ نہ جائے جبکہ کوئی بھی نااہل شخص شامل نہ ہو۔
لیکن بنگال میں، اس عمل کے پیمانے اور وقت نے اسے گہرے سیاسی شبہات کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ 18 مارچ کی ایک رپورٹ کے مطابق، 28 فروری کی ووٹر لسٹ میں 60 لاکھ سے زیادہ ناموں کو فیصلہ سازی کے لیے رکھا گیا تھا، جبکہ 1.9 لاکھ نئے ووٹرز کا اضافہ کیا گیا، جس سے ریاست کے کل ووٹرز کی تعداد 6.44 کروڑ ہو گئی۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سینکڑوں عدالتی افسران فیصلہ سازی کے عمل میں شامل تھے اور اس ہفتے کے آخر تک ایک ضمنی فہرست متوقع تھی۔
یہ وہ پس منظر تھا جس میں ممتا نے اپنا حملہ کیا۔ ریڈ روڈ پر، انہوں نے دلیل دی کہ عام لوگوں، خاص طور پر اقلیتوں کے حقوق کو ووٹر لسٹ سے ناموں کے حذف کرنے کے ذریعے خطرہ لاحق ہے، اور انہوں نے خود کو ان حقوق کے محافظ کے طور پر پیش کیا۔ انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ
ممتا کا مودی پر حملہ: “گھسپیٹھیا” کی اصطلاح پلٹ دی، بنگال کے حقوق کا دفاع
انہوں نے کہا کہ وہ تمام مذاہب، ذاتوں اور برادریوں کے بنگال کے لوگوں کے ساتھ کھڑی رہیں گی، جبکہ مودی پر بیرون ملک مسلمانوں کے ساتھ ایک رویہ اور ملک میں دوسرا رویہ اختیار کرنے کا الزام لگایا۔
ان کا لفظ “گھسپیٹھیا” کا استعمال خاص طور پر تیز تھا کیونکہ اس نے بی جے پی کی سب سے زیادہ سیاسی طور پر بھری ہوئی اصطلاحات میں سے ایک کو پلٹ دیا۔ غیر قانونی داخلے اور مشکوک ووٹروں کے بارے میں بی جے پی کی زبان کو قبول کرنے کے بجائے، انہوں نے اسے مودی پر پلٹ دیا تاکہ یہ تجویز کیا جا سکے کہ اصل مداخلت سیاسی اور آئینی تھی: بنگال کے لوگوں کے حقوق اور حیثیت میں مداخلت کی کوشش۔ چاہے یہ الزام منصفانہ ہو یا ضرورت سے زیادہ، اسے اقلیتی ووٹروں کو متحرک کرنے اور حق رائے دہی سے محرومی کے بارے میں فکر مند تمام لوگوں میں تشویش کو بڑھانے کے لیے واضح طور پر تیار کیا گیا تھا۔
SIR، اقلیتی رسائی اور بنگال کے انتخابی فریم
اس مداخلت کے لیے عید کے اجتماع کا انتخاب سیاسی طور پر دانستہ تھا۔ اس نے ممتا کو براہ راست ایک ایسے طبقے سے بات کرنے کا موقع دیا جو ووٹر کی تصدیق، “گھسپیٹھیا” کی بیان بازی، اور شناخت پر مبنی پولرائزیشن کے مباحثے میں خاص طور پر کمزور محسوس کر سکتا ہے۔ اسی وقت، ان کا پیغام صرف اقلیتی رسائی سے زیادہ وسیع تھا۔ انہوں نے آنے والے انتخابات کو بنگال کے جامع اخلاق کا امتحان قرار دیا اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ بنگال کے تمام لوگ ذات، برادری یا عقیدے سے قطع نظر ووٹر فہرستوں میں شامل رہیں گے، رپورٹ شدہ ریمارکس کے مطابق۔
یہ اہم ہے کیونکہ SIR کا تنازعہ ایک ووٹر بلاک سے آگے بھی گونج سکتا ہے۔ اگر بڑی تعداد میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی ناموں کی غلط جانچ پڑتال، تاخیر یا اخراج کیا جا رہا ہے، تو یہ مسئلہ جلد ہی محض جماعتی پیغام رسانی کے بجائے انتظامی اعتماد کا بن سکتا ہے۔ ممتا اور ترنمول کانگریس اس بات کو سمجھتے ہیں۔ ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ انتخابی فہرست کی مشق کو غیر جانبدارانہ جانچ پڑتال کے بجائے ایک سیاسی طور پر جھکے ہوئے عمل کے طور پر پیش کیا جائے جو نمائندگی کو ہی بدل سکتا ہے۔
ECI، اپنی طرف سے، برقرار رکھتا ہے کہ SIR میں نوٹس، سماعتیں، دعوے، اعتراضات اور اپیلیں شامل ہیں، اور یہ کہ اہل ووٹروں کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس کے شائع شدہ مواد میں کہا گیا ہے کہ ضلعی مجسٹریٹ پہلی اپیلیں سنتے ہیں اور چیف الیکٹورل افسران دوسری اپیلیں سنتے ہیں، جبکہ رضاکار کمزور گروہوں کی مدد کے لیے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود، بنگال میں فیصلوں کی بھاری تعداد نے سیاسی تشویش کے لیے جگہ پیدا کی ہے، خاص طور پر ایک انتخابی ریاست میں۔
یہی وجہ ہے کہ ممتا کی تقریر اپنی سرخیوں میں چھا جانے والی زبان سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ایک طریقہ کار انتخابی انتظامی مشق ایک ہائی وولٹیج انتخابی مہم کا مسئلہ بن سکتی ہے
**بنگال میں عوامی اعتماد کمزور، سیاسی داؤ بلند: ووٹر حقوق مرکزی موضوع**
عوامی اعتماد کمزور ہے اور سیاسی داؤ بلند ہیں۔ ان کے ریمارکس یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ وہ سماجی ہم آہنگی اور مرکزی طاقت کے خلاف وفاقی مزاحمت کے ساتھ ساتھ، ووٹر حقوق کو بنگال کے مقابلے کے مرکزی اخلاقی موضوعات میں سے ایک بنانا چاہتی ہیں۔
اپوزیشن کا ردعمل متوقع طور پر شدید رہا ہے۔ آپ کی شیئر کردہ رپورٹ میں، بی جے پی کے رہنما سوویندو ادھیکاری نے ممتا پر وزیر اعظم کو درانداز کہنے پر حملہ کیا۔ اس تبادلے سے اس مسئلے کے گرد پولرائزیشن کو پرسکون کرنے کے بجائے مزید گہرا ہونے کا امکان ہے۔ فوری طور پر، سیاسی سوال یہ نہیں ہے کہ آیا بیان بازی انتہا پسندانہ تھی، بلکہ یہ ہے کہ آیا یہ ووٹروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوتی ہے کہ فہرستوں میں ناموں پر لڑائی درحقیقت تعلق، وقار اور جمہوری طاقت کی لڑائی ہے۔
