میراتھن میٹنگ دیر رات سے صبح تک جاری رہی
نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی تیاریوں میں تیزی آگئی ہے، مرکزی الیکشن کمیٹی (سی ای سی) کی ایک اہم میٹنگ تقریباً 11 بجے شروع ہوئی اور صبح 3:30 بجے تک جاری رہی۔ اس دوران تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تک مختلف ریاستوں سے آنے والے امیدواروں کے ناموں پر شدید بحث ہوئی۔
16 ریاستوں کے امیدواروں کے ناموں پر مہر
ذرائع کے مطابق اس سی ای سی میٹنگ میں 16 ریاستوں کے کئی امیدواروں کے ناموں کو منظوری دی گئی ہے۔ پارٹی کے اعلیٰ سطحی قائدین کے مطابق اتر پردیش، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ، تلنگانہ، کیرالہ جیسی اہم ریاستوں میں امیدواروں کے انتخاب پر خصوصی توجہ دی گئی۔
اتحاد کی مضبوطی پر خصوصی زور
اس ملاقات میں نہ صرف امیدواروں کے انتخاب پر بلکہ اتحاد کی مضبوطی پر بھی گہرا تبادلہ خیال ہوا۔ خاص طور پر اتر پردیش میں، جہاں بی جے پی نے ایس پی کے ساتھ اپنے اتحاد کو بڑھایا ہے اور نشاد پارٹی، اپنا دل (ایس)، سبھا ایس پی اور آر ایل ڈی کو شامل کیا ہے۔
اپوزیشن کے خلاف برتری حاصل کرنے کی حکمت عملی
انتخابات سے قبل بی جے پی کی اس اسٹریٹجک میٹنگ میں مضبوط ذات پات کے مساوات اور اپوزیشن جماعتوں کے خلاف اتحاد کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کی مانیں تو اس ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں کے ممکنہ اتحاد کو کمزور کرنے کی حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔
آئندہ انتخابات کی تیاری
بی جے پی کی اس میٹنگ سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پارٹی آنے والے انتخابات کے لیے اپنی حکمت عملی پر زور دے رہی ہے۔ جہاں ایک طرف پارٹی امیدواروں کے انتخاب پر توجہ مرکوز کر رہی ہے وہیں دوسری طرف اپوزیشن کے خلاف اتحاد اور حکمت عملی کو مضبوط بنانے پر بھی خصوصی زور دے رہی ہے۔اس میٹنگ کے نتیجے میں بی جے پی جلد ہی اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کرے گی۔ اس کا امکان ہے، جس سے انتخابی میدان میں پارٹی کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔
