نئی دہلی میں ایمرجنسی کے 50 سال مکمل ہونے پر بی جے پی کے رکنِ پارلیمان پروین کھنڈیلوال نے اس دور کو ایک سیاہ باب قرار دیا۔ انہوں نے دہلی کے چاندنی چوک، تہاڑ جیل، تیس ہزاری کورٹ اور ترکمان گیٹ کے اندوہناک واقعات کو یاد کرتے ہوئے ایمرجنسی کے ظلم و ستم کا تفصیلی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ وہ وقت تھا جب آئین کو کچلا گیا، عوام کی آواز کو دبایا گیا اور جمہوریت کی روح کو زخمی کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا اپنا خاندان بھی اس ظلم کا شکار ہوا، اور آج 50 سال بعد بھی یہ زخم تازہ ہیں۔
-
پروین کھنڈیلوال نے کہا کہ ایمرجنسی کے دوران گایا جانے والا نغمہ “تانا شاہوں کی سرکار سنو” آج بھی اس سیاہ دور کی یاد دلاتا ہے۔
-
ان کے مطابق 1975 سے 1977 تک لوگ جیلوں میں بھرے گئے اور تیس ہزاری عدالت میں ہتھکڑیوں میں لائے جاتے تھے۔
-
انہوں نے بتایا کہ ان کے چچا ستیش چندر کھنڈیلوال اور والد وجے کھنڈیلوال بھی ایمرجنسی کے دوران تہاڑ جیل میں قید رہے۔
-
کھنڈیلوال نے کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ 25 جون 1975 کو ہوا، جب آئین کو روند کر عوام کی آواز کو دبایا گیا۔
-
انہوں نے کہا کہ چاندنی چوک اور پرانی دہلی کو آمریت کے عہد میں بدترین ظلم کا سامنا کرنا پڑا۔
-
خاص طور پر ترکمان گیٹ میں بے گناہ لوگوں پر گولیاں چلائی گئیں، گھر بلڈوز کیے گئے، خواتین و بچوں کو سڑکوں پر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔
-
لوگوں کو زبردستی نس بندی کیمپوں میں لے جایا گیا، اور احتجاج کرنے پر ان پر گولیاں برسائی گئیں۔
-
بتایا گیا کہ لاشوں کو رات کے اندھیرے میں ٹرکوں میں بھر کر رنگ روڈ کے قریب پھینک دیا جاتا تھا۔
-
پروین کھنڈیلوال نے کہا کہ اس ظلم کے ذمہ دار آج بھی سزا سے بچ نکلے ہیں، اور ان کی نسلیں جمہوریت کا سبق پڑھا رہی ہیں۔
-
ان کا کہنا تھا کہ ترکمان گیٹ کوئی واقعہ نہیں بلکہ جمہوریت کا مقبرہ ہے، جسے بھلایا نہیں جا سکتا، کیونکہ یادداشت ہی جمہوریت کی محافظ ہے۔
