دہلی میں 5 فروری کو ہونے والے اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی جاری ہے، جس کے نتائج دوپہر تک متوقع ہیں۔ ووٹوں کی گنتی آج صبح 8 بجے سے شروع ہوئی، اور اس کے لیے دہلی کے مختلف علاقوں میں 19 گنتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ پہلے بیلٹ پیپرز کی گنتی مکمل کی گئی، اس کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) کے ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ گنتی مراکز کے آس پاس سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
BulletsIn
- بیشتر ایگزٹ پولز نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سب سے بڑی پارٹی بننے کی پیش گوئی کی ہے۔
- دہلی میں اس بار 60.45 فیصد ووٹنگ ہوئی، جس میں 94,51,997 ووٹرز نے حصہ لیا۔
- مرد ووٹرز کی تعداد 50.42 لاکھ، خواتین ووٹرز 44.08 لاکھ، اور 403 تھرڈ جینڈر ووٹرز نے بھی ووٹ ڈالا۔
- بی جے پی، عام آدمی پارٹی (AAP) اور کانگریس کے کئی بڑے لیڈروں کی سیاسی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔
- شمالی دہلی، شمال مشرقی دہلی، نئی دہلی ضلع، شاہدرہ، اور جنوبی ضلع سمیت مختلف علاقوں میں ووٹوں کی گنتی کے لیے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
- EVM اور VVPAT مشینوں کو 19 اسٹرانگ رومز میں محفوظ رکھا گیا تھا۔
- اس بار مجموعی طور پر 699 امیدوار انتخابات میں اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔
- بڑے امیدواروں میں عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال، آتشی، منیش سسودیا، بی جے پی کے وجیندر گپتا، پرویش ورما، رمیش بدھوڑی، اور کانگریس کے سندیپ دیکشت، الکا لامبا، دیویندر یادو شامل ہیں۔
- ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد واضح ہوگا کہ دہلی کے عوام نے کس پارٹی پر اعتماد کیا ہے۔
- انتخابی نتائج سے دہلی کی آئندہ حکومت کی سمت کا تعین ہوگا۔
