سونے کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے کشمیر میں زیورات کے کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ صرافہ بازار میں فروخت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، اور تاجر غیر یقینی صورتحال کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ صارفین قیمتوں میں استحکام کا انتظار کر رہے ہیں، جبکہ کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ مارکیٹ تقریباً جمود کا شکار ہو چکی ہے۔
BulletsIn
- سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کشمیر میں زیورات کی فروخت 90 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔
- آل کشمیر گولڈ ڈیلرز اینڈ ورکرز ایسوسی ایشن کے صدر بشیر احمد کے مطابق مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں معمول کے 10 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں۔
- فی الحال 24 قیرٹ سونے کی قیمت 86,000 روپے فی 10 گرام تک پہنچ چکی ہے، جس نے صارفین کو مزید محتاط کر دیا ہے۔
- 22 قیرٹ اور 18 قیرٹ سونے کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
- تاجر قیمتوں کے مستحکم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کوئی پیش گوئی ممکن نہیں۔
- سونے کی قیمتوں میں اضافے کے باعث دکانوں میں گاہکوں کا رش تقریباً ختم ہو چکا ہے، صرف چند لوگ ہی خریداری کے لیے آ رہے ہیں۔
- سکے کی قیمتوں میں بھی کوئی کمی نہیں دیکھی جا رہی، بلکہ وہ بھی سونے کی قیمتوں کے ساتھ بڑھ رہی ہیں۔
- بہت سے ممکنہ خریدار قیمتوں میں کمی کا انتظار کر رہے ہیں اور اپنی خریداری کے فیصلوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔
- کشمیری شادیوں میں سونے کی روایت ہمیشہ سے مضبوط رہی ہے، لیکن موجودہ قیمتیں لوگوں کو دوبارہ سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں۔
- سونے کی مارکیٹ میں عدم استحکام نے اس کاروبار سے وابستہ افراد کی روزی روٹی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
