سال 2025 کے آغاز سے ہندوستانی مسلح افواج کے لیے دھرو ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر (اے ایل ایچ) کا گراونڈ ہونا ایک سنجیدہ مسئلہ بن گیا ہے، جس کا اثر نہ صرف نگرانی اور بچاو مشنوں پر پڑا ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں تعینات افواج کی نقل و حمل اور آپریشنز پر بھی گہرا اثر ہوا ہے۔ خاص طور پر چین اور پاکستان کی سرحدوں پر تعینات دستے ان ہیلی کاپٹروں پر بڑی حد تک انحصار کرتے ہیں۔
BulletsIn
-
دھرو اے ایل ایچ ہیلی کاپٹرز کو سال کے آغاز سے گراونڈ کیا گیا، جس سے فوجی آپریشنز شدید متاثر ہوئے ہیں۔
-
ہندوستانی فوج کے پاس 180 سے زیادہ اے ایل ایچ ہیں، جن میں 60 مسلح ’’رودر‘‘ ورژنز شامل ہیں۔
-
فضائیہ کے پاس 75، بحریہ کے پاس 24، اور کوسٹ گارڈ کے پاس 19 اے ایل ایچ موجود ہیں۔
-
تین ماہ سے گراونڈ ہونے کی وجہ سے پائلٹ اپنی مہارت کھو رہے ہیں اور اب صرف سمولیٹرز پر انحصار کر رہے ہیں۔
-
5 جنوری کو پوربندر حادثے میں کوسٹ گارڈ کے دو پائلٹوں اور ایک فضائی اہلکار کی ہلاکت کے بعد اے ایل ایچ کو گراونڈ کیا گیا۔
-
مسلح افواج نے اگلے 10 تا 15 سال میں 1000 نئے ہیلی کاپٹرز کی ضرورت ظاہر کی ہے۔
-
ان مجوزہ ہیلی کاپٹرز میں 484 لائٹ یوٹیلیٹی ہیلی کاپٹر (ایل یو ایچ) اور 419 انڈین ملٹی رول ہیلی کاپٹر (آئی ایم آر ایچ) شامل ہیں۔
-
مزید 156 پرچنڈ جنگی ہیلی کاپٹر بھی منصوبے کا حصہ ہیں، جن میں 90 فوج کے لیے اور 66 فضائیہ کے لیے ہوں گے۔
-
سول ہیلی کاپٹرز کو کرایے پر لے کر دور دراز علاقوں تک رسد پہنچانے کا کام جاری ہے۔
-
اب تک یہ سول ہیلی کاپٹر کرگل، گریز، کشتواڑ، گڑھوال، اور ہماچل پردیش کے علاقوں میں 900 ٹن سے زیادہ سامان کی ترسیل کر چکے ہیں۔
