نئی دہلی، 12 جنوری (ہ س)۔
مرکزی حکومت نے 2014 اور 2023 کے درمیان شہری بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے اور شہری نظم و نسق کو مضبوط بنانے کے لیے، غریبوں کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے تبدیلی کے اقدامات کیے ہیں۔ مرکزی حکومت کی مداخلت سے سماج کے مختلف طبقات کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ اس میں اسٹریٹ وینڈرز، شہری ورکرز اور کم اور درمیانی آمدنی والے گروپ کے لوگ شامل ہیں، جو نل جل کے کنکشن، صفائی اور دیگر بنیادی خدمات کی تلاش میں ہیں۔ ان کے لیے 2023 ملک میں شہری حکمرانی کے لیے ایک غیر معمولی سال تھا۔ ہاو¿سنگ اور شہری امور اور پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
مرکزی وزیر پوری نے کہا کہ 2014 سے اب تک شہری ترقی میں 18.07 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ پردھان منتری آواس یوجنا – شہری پی ایم اے وائی(یو) اسکیم کے تحت 1.18 کروڑ مکانات کو منظوری دی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار جواہر لال نہرو قومی شہری تجدید اسکیم (جے این این یو آر ایم) اور راجیو آواس یوجنا (آر اے وائی) کے تحت پہلے کے 13.46 لاکھ مکانات کے مقابلے تقریبا 9 گنا ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ پی ایم سو اندھی اسکیم کے تحت 50 لاکھ مستفدینمیں 10,000 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے۔ پردھان منتری آواس یوجنا – شہری (پی ایم اے وائی-یو) کے تحت 12 لاکھ مکانات کی تعمیر مکمل۔ عام طور پر ہر ماہ اوسطاً 1 لاکھ گھر تعمیر ہوتے تھے۔ اس مدت کے دوران، سوچھ بھارت مشن – اربن 2.0 کے تحت 879 لاکھ میٹرک ٹن کچرے کو ٹھکانے لگایا گیا۔ 336 ڈمپ سائٹس کو صاف کیا اور 3,708 ایکڑ اراضی کو دوبارہ حاصل کیا۔ گوبردھن اسکیم کے تحت نامیاتی فضلہ سے مو¿ثر وسائل کی بازیافت کے لیے 68 سے زیادہ بائیو گیس پلانٹس (سی بی جی) کو منظوری دی گئی۔
ہندوستھان سماچار
