چنڈی گڑھ، 23 اکتوبر (ہ س)۔
پنجاب کے کسانوں نے ایک بار پھر حکومت کے خلاف محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کسانوں نے 15 نومبر سے تمام ٹول پلازے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا اعلان کرتے ہوئے شمالی ہندوستان کی 20 کسان تنظیموں نے کہا کہ حکومت کسانوں کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔
کسان رہنماو¿ں سرون سنگھ پنڈھر، جسوندر سنگھ لونگووال، جرنیل سنگھ کالے اور امرجیت سنگھ موہری نے پیر کو کہا کہ حکومت کسانوں کے مطالبات کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔ کچھ مطالبات مرکز سے متعلق ہیں اور کچھ ریاستی حکومت سے متعلق ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 23 اور 24 اکتوبر کو حکومت کا پتلا جلا کر دسہرہ منایا جائے گا۔ کسان رہنماو¿ں کا مطالبہ ہے کہ تمام فصلوں کی ایم ایس پی پر خریداری اور تمام فصلوں کی قیمتوں کو یقینی بنانے کے لیے ایک گارنٹی قانون بنایا جائے۔ اس کا فیصلہ سوامی ناتھن کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ منریگا کے تحت مزدوروں کو 200 دن کا روزگار دیا جائے۔ منشیات پر پابندی لگائی جائے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں کسانوں کے نقصانات کی بھرپائی کے لیے 50 ہزار کروڑ روپے کا خصوصی پیکیج جاری کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی مارچ کے دوران درج کئے گئے پولیس مقدمات کو منسوخ کیا جانا چاہئے۔ لکھیم پور کھیری قتل کیس میں انصاف دیا جائے۔ کسان رہنماو¿ں کے مطابق چار رکنی کمیٹی نے یہ فیصلہ جگجیت سنگھ دلیوال کے یونائیٹڈ کسان مورچہ، غیر سیاسی محاذ اور 32 کسان تنظیموں کے ساتھ میٹنگ کے بعد لیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
