دربھنگہ، 17 دسمبر(ہ س)۔
بہار کے دربھنگہ میں ڈی ایم سی ایچ کے ڈاکٹروں کی شراب پارٹی کا ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ جس میں کئی ڈاکٹر کباب کے ساتھ شراب بھی پی رہے ہیں۔ حالانکہ جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ ان کی ویڈیو بنائی جا رہی ہے، سب منہ چھپا کر کمرے سے نکل گئے۔ سابق ایم پی پپو یادو نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انتظامیہ نے کارروائی شروع کر دی ہے۔
شمالی بہار کے سب سے بڑے اسپتال دربھنگہ میڈیکل کالج اینڈ اسپتال کے گیسٹ ہاؤس میں شراب پارٹی کا ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے ، جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ شہر اور دیگر مقامات سے پیڈیکان کانفرنس میں آئے ڈاکٹروں کو شراب پارٹی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ وائرل ویڈیو میں گیسٹ ہاؤس کے کمرے میں شراب کی بوتل ، کین اور کھانے پینے کی اشیاء واضح طور پر دکھائی دے رہی ہیں۔
اس وائرل ویڈیو میں کچھ ڈاکٹر سر چھپاتے نظر آ رہے ہیں۔ کوئی شال سے منہ ڈھانپے کمرے سے باہر نکلتے نظر آرہے ہیں۔حالانکہ ہندوستھان سماچار اس وائرل ویڈیو کی تصدیق نہیں کرتا ہے۔ جب یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو دربھنگہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اوکاش کمار نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے صدر ایس ڈی پی او امیت کمار کو کارروائی کی ذمہ داری سونپی ہے۔
وہیں ہدایات ملتے ہی صدر ایس ڈی پی او امیت کمار اپنی ٹیم کے ساتھ ڈی ایم سی ایچ کے گیسٹ ہاؤس پہنچے اور کارروائی شروع کردی۔ پورے گیسٹ ہاؤس کی تلاشی لینے کے بعد پولس نے گیسٹ ہاؤس سے کچھ شراب کی بوتل ضبط کیں۔ اس کے علاوہ پیڈیکان کانفرنس کی شراب پارٹی میں شامل ڈاکٹروں کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ایس ڈی پی او نے کہا کہ اس معاملے میں جو بھی قصوروار پایا گیا اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی ۔
جن ادھیکار پارٹی کے قومی صدر اور سابق ایم پی پپو یادو نے اس معاملے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنےہینڈل پر لکھا، کیا بہار میں غریبوں کے لیے شراب بندی کے لیے الگ قانون ہے اور کیا ڈی ایم سی ایچ کے پرنسپل اور ڈاکٹروں کے لیے الگ قانون ہے ؟ دربھنگہ میں پیڈیکان کانفرنس میں شراب پیش کی جا رہی تھی۔ انتظامیہ سو رہی تھی ، آخر کب تک یہ چلتا رہے گا ؟ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو نوٹس لینا چاہیے۔
ہندوستھان سماچار/ افضل/محمد
