سلکیارا ٹنل میں پھنسے 41 مزدوروں تک پہنچنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری، اگلے 48 گھنٹے اہم
۔ 24 میٹر تک ہوئی ورٹیکل ڈرلنگ، کل 86 میٹر ہونی ہے کھدائی، اندر بجی بی ایس این ایل کی گھنٹی، مرکزی داخلہ سکریٹری اجے کمار بھلا کے آج پہنچنے کا امکان
اترکاشی، 27 نومبر (ہ س)۔ اتراکھنڈ کے اترکاشی میں زیر تعمیر سلکیارا سرنگ میں پھنسے 41 مزدوروں کو بچانے کے لیے ورٹیکل ڈرلنگ بھی شروع ہو گئی ہے۔ اگر کوئی رکاوٹیں نہیں آئیں تو امدادی کارکن اگلے دو روز میں مزدوروں تک پہنچ سکتے ہیں۔ دریں اثنا 800 ایم ایم کے پائپ میں پھنسی ہوئی آگر مشین کے بلیڈ کو حیدرآباد سے منگوائے گئے پلازما اور لیزر کٹر سے کاٹا جا رہا ہے۔ مرکزی داخلہ سکریٹری اجے کمار بھلا کے آج (پیر) یہاں پہنچنے کا امکان ہے۔ پائپ سے مشین کا ملبہ ہٹانے کے بعد دستی کھدائی بھی شروع کی جائے گی۔
نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر محمود احمد نے سلکیارا میں صحافیوں کو بتایا کہ اب تک 24 میٹر ورٹیکل ڈرلنگ کی جا چکی ہے۔ مجموعی طور پر 86 میٹر کھدائی کی جانی ہے۔ ٹنل کے بالائی اور دوسرے سروں سے کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے مزید ٹیمیں طلب کی گئی ہیں۔ او این جی سی کی ایک ٹیم آندھرا پردیش کے راجمندری سے پہنچی ہے۔
ہندوستانی فوج کی انجینئرنگ کور کا ایک گروپ مدراس سیپرس کا ایک یونٹ اتوار کو بچاو آپریشن میں مدد کے لیے سلکیارا پہنچا۔ اس میں 30 فوجی اہلکار ہیں۔ یہ فوجی اہلکار عام شہریوں کے ساتھ مل کر سرنگ کے اندر موجود ملبے کو ہاتھوں، ہتھوڑے اور چھینی سے نکالیں گے۔ اس کے بعد اس کے اندر بنے پلیٹ فارم سے پائپ کو آگے بڑھایا جائے گا۔ فضائیہ بھی مدد میں مصروف ہے۔ فضائیہ نے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن سے بہت سے اہم آلات بھیجے ہیں۔
دریں اثنا، سرنگ میں پھنسے 41 مزدوروں تک دوبارہ پہنچنے کی امید بندھ گئی ہے۔ چار راستوں سے مزدوروں تک پہنچنے کا کام اتوار سے شروع کر دیا گیا ہے۔ پائپ میں پھنسی اوگر مشین کے بلیڈ کو حیدرآباد کے لیزر کٹر اور چنڈی گڑھ کے پلازما کٹر سے کاٹا جا رہا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ بی ایس اینایل کی گھنٹی کل پہلی بار سرنگ میں مزدوروں کے قریب بجی۔ چھ انچ کے پائپ کے ذریعے اپنی لائن پہنچانے کے ساتھ ساتھ، بی ایس این ایل نے لینڈ لائن فون بھی پہنچا دیا ہے۔
ریسکیو آپریشن میں شامل بین الاقوامی سرنگ ماہر آرنولڈ ڈکس نے کہا ہے کہ سرنگ کا گرنا ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ جو علاقہ منہدم ہوا وہ پہلے کبھی نہیں گرا تھا۔ نوڈل افسر ڈاکٹر نیرج کھیروال کا کہنا ہے کہ آج ہاتھ سے کھدائی شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سب کے درمیان ہندوستانی محکمہ موسمیات نے آج اتراکھنڈ میں بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا ہے۔ اگر بارش ہوئی تو ریسکیو آپریشن میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرنگ کے ملبے میں سوراخ کرنے والی اوگر مشین کے بلیڈ جمعہ کی رات ملبے میں پھنس گئے، جس سے حکام کو دوسرے آپشنز پر غور کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ چاردھام یاترا کے راستے پر بنائی جا رہی سرنگ کا ایک حصہ 12 نومبر کو منہدم ہو گیا تھا۔ اس دوران 41 مزدور پھنس گئے۔ اس کے بعد سے مختلف ایجنسیاں انہیں نکالنے کے لیے جنگی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
