
سلکیارا سرنگ سے باہر آئے مزدوروں نے 17 دن بعد سورج کو طلوع ہوتے دیکھا
۔ سلکیارا ٹنل سیل، وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کا تمام زیر تعمیر سرنگوں کی جانچ کرانے کا اعلان
چنیالیسور (اتراکھنڈ)، 29 نومبر (ہ س)۔ جب ملک اور دنیا میں دیوالی کی دھوم تھی تب 41 مزدوراترکاشی کے سلکیارا میں زیر تعمیر سرنگ میں پھنس گئے تھے۔ ان سب کو بحفاظت نکالنے کے لیے شروع کیا گیا راحت اور بچاو آپریشن منگل کی رات مکمل ہوا۔ تمام مزدوروں کو رات کو کمیونٹی ہیلتھ سنٹر چنیالیسور لے جایا گیا۔ بدھ کی صبح 18 دن کے بعد تمام مزدوروں نے سورج کو طلوع ہوتے دیکھا۔ اب ان مزدوروں کو ہندوستانی فضائیہ کے چنوک طیارے کے ذریعے ایمس اسپتال رشیکیش بھیجا جائے گا۔ چنوک طیارہ اور ایک ہیلی کاپٹر چنیالیسور کی فضائی پٹی پر پہنچ گیا ہے۔
میڈیکل آفیسر انچارج ڈاکٹر ونود ککریتی نے بتایا کہ دیر رات سبھی کا ہیلتھ چیک اپ کیا گیا۔ تمام صحت مند ہیں۔ تمام مزدور اچھی نیند سوئے۔ اب دوبارہ صحت کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔ اس کے بعد گھر بھیجنے یا ریفر کرنے کا عمل شروع ہو گا۔
آل ویدر روڈ پروجیکٹ کے تحت زیر تعمیر سلکیارا ٹنل کو چاردھام یاترا کے لیے سیل کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے منگل کی دیر رات میڈیا کے سوالات پر کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ایک مشترکہ ٹیم اتراکھنڈ میں زیر تعمیر تمام سرنگوں کی جانچ کرے گی۔ تمام سرنگوں کا سیفٹی آڈٹ بھی کرایا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ 12 نومبر کو سلکیارا سرنگ کا ایک حصہ دھنس گیا تھا جس کی وجہ سے 41 مزدور پھنس گئے تھے۔ نیویوگ انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ نیشنل ہائی وے اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی نگرانی میں نیو آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ (این اے ٹی ایم) کا استعمال کرتے ہوئے یمونوتری ہائی وے پر اس سرنگ کی تعمیر کر رہی تھی۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
