



نئی دہلی، 11 نومبر (ہ س)۔ جو کام قومی راجدھانی دہلی اور این سی آر میں حکومتیں نہیں کرسکیں، وہ قدرت نے 24 گھنٹے میں کر دیا۔ آج (ہفتہ) کی صبح مجموعی طور پر ہوا کے معیار کے انڈیکس (اے کیو آئی) میں بڑی بہتری آئی ہے۔ فطرت کو چیلنج کرتے ہوئے مصنوعی بارش کرانے کی باتوں کے درمیان عام بارش نے خود ہی اس آلودگی کی کمر توڑ دی جو دہلی-این سی آر میں پچھلے کچھ دنوں سے کنڈلی مار کر بیٹھی ہوئی تھی۔
قدرت نے ایسا کام کیا کہ صرف 24 گھنٹوں کے اندر قومی راجدھانی کا اے کیو آئی 158 پوائنٹس گر گیا۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق، دہلی-این سی آر میں ہوا کے معیار کی سطح سنیچر کی صبح 224 تک گر گئی۔ جمعہ کو یہ 400 سے زیادہ تھی۔
دو دن پہلے جمعرات کو دہلی کی ہوا ‘سنگین زمرے میں تھی۔ اگلے دن جمعہ کو یہ دو مقام گر کر ‘خراب زمرے میں آگئی۔ صبح جب لوگ بیدار ہوئے تو باہر کا منظر بدلا ہوا دکھائی دیا۔ ایک ہفتے سے زہریلی ہوا میں سانس لینے والے شہریوں کو ہلکی بوندا باندی کے درمیان صاف ہوا مل گئی، بارش دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہی۔ جس کی وجہ سے فضا میں موجود آلودگی والے ذرات کافی حد تک دھل گئے۔
مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق، آج صبح دہلی کے آنند وہار میں اے کیو آئی 282، آر کے پورم میں 220، پنجابی باغ میں 236 اور آئی ٹی او میں 263 ریکارڈ کیا گیا۔ اگرچہ یہ اب بھی ‘خراب زمرے میں ہے۔ لیکن پچھلے 48 گھنٹوں میں اس میں زبردست کمی آئی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دہلی کے اب بھی 15 علاقے ایسے ہیں جہاں اے کیو آئی 300 سے اوپر ہے، لیکن دہلی کی فضا سے اسموگ کی چادر کافی حد تک صاف ہو چکی ہے۔
دریں اثنا، زمینی سائنس وزارت کے ایئر کوالٹی ارلی وارننگ سسٹم نے کہا ہے کہ یہ راحت زیادہ نہیں صرف دو دن تک رہنے کا امکان ہے۔ اس کے بعد آلودگی کی سطح دوبارہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ دیوالی کے اگلے دن 13 نومبر سے ہوا کے دوبارہ سنگین زمرے میں جانے کا امکان ہے۔ آلودگی کی سطح میں یہ تبدیلی دیوالی پر ہونے والی آتشبازی اور پٹاخوں پر بھی کافی انحصار کرے گی۔
فطرت کی مہربانی سے خوش ہو کر دہلی کے وزیر ماحولیات گوپال رائے نے جمعہ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ 13 نومبر سے طاق-جفت کو نافذ نہیں کیا جائے گا۔ بارش کی وجہ سے دہلی کے ماحول میں کافی بہتری آئی ہے۔ اے کیو آئی میں بھی کافی کمی آئی ہے۔ ہوا کی رفتار میں اضافے کی وجہ سے آئندہ ایک دو روز میں مزید گر سکتی ہے۔ دیوالی کے بعد کی صورتحال دیکھ کر ہی طاق جفت پر فیصلہ لیا جائے گا۔
ہندوستھان سماچار//سلام
