نئی دہلی، یکم دسمبر (ہ س)۔ اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی کوسپریم کورٹ سے کوئی راحت نہیں ملی۔ یوپی حکومت کی طرف سے جوہر یونیورسٹی کو دی گئی زمین کی لیز کو منسوخ کرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ کو پہلے اس معاملے کی سماعت کرنی چاہیے۔
مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی جس میں یوپی حکومت کی جانب سے یونیورسٹی کو دی گئی زمین کی لیز کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ یوپی کی اس وقت کی ایس پی حکومت نے رام پور کے مرتضیٰ ہائر سیکنڈری اسکول کا پورا احاطہ بشمول عمارت مولانا محمد جوہر ٹرسٹ کو 99 سال کے لیز پر دے دی تھی۔ اس کا سالانہ کرایہ 100 روپے مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے لیے یوپی کے سیکنڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ساتھ بھی ایک معاہدہ کیا گیا تھا۔
اب یوپی حکومت نے معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے لیز کو منسوخ کر دیا ہے۔ یہ معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ میں بھی زیر التوا ہے۔ ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت میں تاخیر کے بعد مولانا محمد جوہر ٹرسٹ نے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
