نئی دہلی، 17 نومبر (ہ س)۔ ملک کے سینئر ہندی ادیب سے را یاتری کا آج صبح انتقال ہوگیا۔ انہوں نے غازی آباد کے کوی نگر میں واقع اپنے گھر میں آخری سانس لی۔ سے را یاتری کی آخری رسومات ہنڈن شمشان گھاٹ (غازی آباد) میں دو پہر 3 بجے ادا کی جائیں گی۔ وہ کچھ عرصے سے علیل تھے۔ یہ معلومات ان کے خاندان کے قریبی ایڈوکیٹ پروین نے دی۔
سیوا رام یاتری، 10 جولائی 1932 کو مظفر نگر، اتر پردیش میں پیدا ہوئے، ادب کی دنیا میں سیوا رام یاتری کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے تقریباً 18 کہانیوں کے مجموعے، 33 ناول اور دو طنزیہ مجموعے لکھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک کہانیوں کا مجموعہ اور ایک یادداشت کی تدوین کی۔
ان کے ناولوں میں درازوں میں بند دستاویزات، لوٹتے ہوئے ،کئی اندھیروں کے پار، اپرچیت سیش، چاندنی کے آر پار، بیچ کی درار، ٹوٹتے دائرے ، چادرکے باہر، پیاسی ندی، بھٹکا میگھ، آکاشچاری،آتم داہ ، باوجود، انت ہین، پرتھم پریچے، جلی رسی،یودھ اویرام ، دشاہرا، بے دخل اتیت، صبح کی تلاش، گھر نہ گھاٹ، آخری پڑاو، ایک زندگی اور، ان دیکھے پل،قلندر، سرنگ کے باہر، کہانیوں کے مجموعے میں کیول پتا، دھراتل، ٹاپوپر اکیلے، دوسرے چہرے، سلسلہ، کھنڈت سنواد، بھوک شامل ہیں۔
ان کی اہلیہ اوشا دیوی اور دو بیٹیوں کا انتقال ہو چکا ہے۔ اب ان کے خاندان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے آلوک یاتری اور انوبھو یاتری ہیں۔ سے را یاتری کو کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان میں – سیتو شیکھر سمان، پٹسبرگ امریکہ (2017)، مہاتما گاندھی ساہتیہ سمان (2011)، سارسوت سمان (2007)، ساہتیہ بھوشن (2006) قابل ذکر ہیں۔
ہندوستھان سماچار
