شام ایک بار پھر خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔ ملک کی نئی حکومت اور سابق صدر بشار الاسد کے حامیوں کے درمیان جاری تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، جس میں اب تک تقریباً 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دسمبر میں اسد کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد پہلی بار یہ پرتشدد جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں، جو جمعرات سے مسلسل جاری ہیں۔
BulletsIn
- 14 سالہ خانہ جنگی کے بعد گزشتہ برس امن کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔
- باغیوں نے دسمبر میں اقتدار حاصل کیا، اسلام پسند گروپ هيئة تحرير الشام کی قیادت میں۔
- بشار الاسد روس فرار ہو گئے جب باغیوں نے ملک کا کنٹرول سنبھالا۔
- جمعرات کو دوبارہ تشدد بھڑک اٹھا، جس میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
- حکومتی سیکورٹی فورسز نے جبلہ میں ایک مطلوب شخص کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، جس پر اسد کے حامیوں نے حملہ کر دیا۔
- سیکورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی، اسد کے حامیوں کے ٹھکانوں پر حملے شروع کر دیے۔
- لاذقیہ میں خونریز جھڑپیں ہوئیں، جس میں 70 افراد مارے گئے۔
- اسد کے حامیوں کے علاقوں میں آپریشن جاری ہے، خاص طور پر ان کے خاندانوں کے مراکز میں۔
- تشدد کے دوبارہ آغاز نے ملک کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
- بین الاقوامی برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور فوری امن کے قیام پر زور دیا ہے۔
