نیپال کی سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں “عوامی جنگ” کے لفظ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے تمام سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس پرکاشمان سنگھ راوت کی سربراہی میں سات ججوں کی آئینی بنچ نے دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ اصطلاح نیپال کے آئین کے اصولوں کے خلاف ہے اور اسے سرکاری دستاویزات میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
BulletsIn
- نیپال کی سپریم کورٹ نے “عوامی جنگ” کے لفظ کو غیر آئینی قرار دیا۔
- عدالت نے سرکاری ریکارڈ اور دستاویزات سے اس اصطلاح کو ہٹانے کا حکم دیا۔
- یہ فیصلہ چیف جسٹس پرکاشمان سنگھ راوت کی سربراہی میں سات ججوں کی آئینی بنچ نے دیا۔
- ماؤ نواز 10 سالہ مسلح تصادم کو “عوامی جنگ” کے طور پر بیان کرتے تھے۔
- اقتدار میں رہتے ہوئے ماؤ نواز نے بجٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات میں اس اصطلاح کا استعمال کیا۔
- سپریم کورٹ نے کہا کہ نیپال کا آئین “عوامی جنگ” کی اصطلاح کو تسلیم نہیں کرتا۔
- عدالت نے اس اصطلاح کو آئین کی تمہید کے خلاف قرار دیا۔
- سپریم کورٹ نے پہلے ہی “عوامی جنگ” کے دن پر ماؤ نواز حکومت کی عام تعطیل کو ختم کر دیا تھا۔
- عدالت کے مطابق سرکاری بجٹ تقریر یا دیگر دستاویزات میں اس لفظ کا استعمال ناقابل قبول ہے۔
- یہ فیصلہ آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
