بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کے دور میں ڈھاکہ میں شروع ہونے والے میٹرو ریل منصوبے پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عبوری حکومت نے اس منصوبے پر نظرثانی کا اعلان کیا ہے، جس سے اس کی تخمینہ لاگت اور روٹ کے انتخاب پر بھی تحفظات سامنے آئے ہیں۔ یہ صورتحال عوامی مفاد کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر رہی ہے، خاص طور پر اس بات پر کہ کس طرح مخصوص گروپوں کے مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
BulletsIn
- ڈھاکہ میں میٹرو ریل منصوبہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے دور میں شروع کیا گیا۔
- عبوری حکومت نے اس منصوبے پر نظرثانی کا اعلان کیا ہے، جس سے تخمینہ لاگت پر سوالات اٹھے ہیں۔
- اخبار پرتھم آلو کے مطابق، سابق حکومت کے میٹرو کے نئے روٹ کے انتخاب پر اعتراضات موجود ہیں۔
- الزام ہے کہ ایک مخصوص گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے روٹ میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
- وزارتوں کے عہدیداروں نے کہا کہ نئے میٹرو ریل ٹریک کی ترجیحات میں عوامی مفاد کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
- تنازعہ خاص طور پر ایم آر ٹی لائن-5 کے حوالے سے ہے، جس کا روٹ گبٹولی سے دشیرکنڈی تک ہے۔
- حکام کا کہنا ہے کہ ایم آر ٹی لائن-2 کو لائن-5 (جنوبی روٹ) پر ترجیح دی جانی چاہئے تھی۔
- پلاننگ کمیشن نے لائن-2 کو لائن-5 سے زیادہ اہم قرار دیا ہے، مگر اسے آخری سلاٹ پر رکھا گیا۔
- لائن-5 کی فزیبلٹی سٹڈی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ لائن-2 منصوبے میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔
- لائن-2 کی تعمیر سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ہوگا، کیونکہ یہ شہر کے گنجان آباد علاقوں کو جوڑتا ہے۔
