امریکی صدر کے خصوصی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے گزشتہ دو دنوں کے دوران دوحہ میں اہم سفارتی ملاقاتیں کیں، جن کا مقصد غزہ میں جنگ بندی میں توسیع اور تعمیر نو کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ اس دورے کے دوران اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے ایک نئی تجویز پیش کی گئی، جس پر مختلف فریقین کے ردعمل کا انتظار ہے۔
BulletsIn
- نئی جنگ بندی تجویز – وِٹکوف نے اسرائیل اور حماس کو ایک نئی تجویز دی، جس کے تحت 5 زندہ یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے غزہ میں کئی ہفتوں تک جنگ بندی کی توسیع شامل ہے۔
- اسرائیلی ردعمل – اسرائیل نے وِٹکوف کی اس نئی تجویز پر مثبت ردعمل دیا ہے۔
- حماس کا جواب زیرِ التوا – ثالث ابھی تک حماس کے باضابطہ جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔
- قطر میں مذاکرات – منگل کو قطر میں وِٹکوف کی موجودگی میں جنگ بندی پر مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا۔
- عرب وزرائے خارجہ سے ملاقات – امریکی ایلچی نے قطر میں عرب وزرائے خارجہ سے ملاقات کی اور غزہ کی تعمیر نو پر گفتگو کی۔
- شرکاء ممالک – قطر، امارات، سعودی عرب، مصر، اور اردن کے وزرائے خارجہ کے ساتھ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے سیکرٹری نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
- عرب سربراہی اجلاس کا منصوبہ – اجلاس میں عرب وزراء نے 4 مارچ 2025 کو قاہرہ میں ہونے والے عرب سربراہی اجلاس میں پیش کیے گئے غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا۔
- امریکی رابطہ کاری – عرب ممالک اور امریکی ایلچی نے تعمیر نو کے سلسلے میں مستقل مشاورت اور رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
- دو ریاستی حل پر زور – عرب وزراء نے جنگ بندی کی ضرورت اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور جامع امن کے قیام پر زور دیا۔
- جنگ بندی معاہدے کی موجودہ صورتِ حال – 42 دن تک جاری رہنے والا جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ یکم مارچ کو ختم ہو گیا، جبکہ دوسرا مرحلہ اب تک نافذ نہیں ہو سکا ہے، کیونکہ اسرائیل اور حماس کے درمیان کئی نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔
