مصطفیٰ عامر قتل کیس حالیہ دنوں میں ایک اہم معاملہ بن چکا ہے، جس پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور نے بھی نوٹس لے لیا ہے۔ یہ کیس کراچی میں جنوری میں پیش آیا تھا، جس میں مصطفیٰ عامر کو مبینہ طور پر اس کے دوستوں نے اغوا کر کے قتل کر دیا تھا۔ کیس کی تحقیقات میں کئی پیچیدگیاں سامنے آئی ہیں، جن میں پولیس کی نااہلی، عدالتی تنازعات اور تفتیش میں تاخیر شامل ہیں۔
BulletsIn
- قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کا نوٹس لیا۔
- آئی جی سندھ غلام نبی میمن کو 28 فروری کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔
- سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت پر محکمہ داخلہ سندھ نے اے ٹی سی 1 جج کے انتظامی اختیارات منسوخ کر دیے۔
- اے ٹی سی 1 کے جج نے کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کو ریمانڈ دینے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔
- اے ٹی سی 1 کے انتظامی اختیارات اے ٹی سی 3 کے جج کو منتقل کر دیے گئے۔
- 26 فروری کو پولیس نے ملزمان ارمغان اور شیراز کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔
- مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر کی لاپرواہی پر مایوسی کا اظہار کیا، جس کی وجہ سے شناخت پریڈ نہیں ہو سکی۔
- گواہوں کے بیانات دفعہ 164 کے تحت قلمبند نہیں کیے جا سکے۔
- عدالت نے ملزمان کے وکلا کو نوٹس جاری کر کے انہیں دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا۔
- پولیس کے مطابق مصطفیٰ عامر کو اغوا کے بعد قتل کر کے اس کی لاش کو حب میں گاڑی میں جلا دیا گیا تھا۔
