پاکستان میں وکلاء اور صحافیوں نے حکومت کی جانب سے الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پی ای سی اے) میں کی گئی ترامیم کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے مشاورتی اجلاس میں اظہار رائے کی آزادی پر پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں ان ترامیم کو آئین کے آرٹیکل 19 اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
BulletsIn
- وکلاء اور صحافیوں نے پی ای سی اے (ترمیمی) ایکٹ 2025 کو مسترد کر دیا۔
- سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں اظہار رائے کی آزادی کو جمہوریت کی بنیاد قرار دیا گیا۔
- اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی، جس میں ترامیم کی مذمت کی گئی۔
- پی ای سی اے ترمیم کو آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
- یہ ترمیم اقوام متحدہ کے شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے (آئی سی سی پی آر) کے خلاف ہے۔
- حکومت کو یاد دلایا گیا کہ پاکستان اس بین الاقوامی معاہدے کا دستخط کنندہ ہے۔
- وکلاء اور صحافیوں نے ڈیجیٹل سنسر شپ میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔
- اجلاس میں سپریم کورٹ بار کے صدر اور دیگر قانونی ماہرین نے شرکت کی۔
- میڈیا کی نمائندگی سینئر صحافیوں نے کی، جن میں حامد میر، مظہر عباس، اور عارفہ نور شامل تھے۔
- سندھ ہائی کورٹ میں پی ای سی اے میں کی گئی ترامیم کے خلاف درخواستیں دائر کر دی گئی ہیں۔
