غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی چھ ماہ سے جاری جنگ کے درمیان ہفتے کے روز اسرائیلی شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے خلاف مظاہرہ کیا۔ مظاہرین وزیر اعظم نیتن یاہو کے استعفے اور ملک میں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اتوار کو مظاہرین دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے اور یروشلم میں ایک ریلی نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
غزہ میں حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ اتوار کو ساتویں مہینے میں داخل ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی نیتن یاہو حکومت کی مخالفت بھی تیز ہوتی جا رہی ہے۔ ہفتہ کو ایک بار پھر لوگوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور مظاہرہ کیا۔ مظاہرین اب قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس مطالبے کے حوالے سے دارالحکومت سمیت کئی دوسرے شہروں میں ریلیاں نکالی گئیں اور نیتن یاہو کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے گئے۔ ایسی ہی ایک ریلی میں اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے شرکت کی اور مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم انہیں گھر نہیں بھیجیں گے وہ اس ملک کو آگے نہیں بڑھنے دیں گے۔
اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق حماس کے حملے میں جنوبی اسرائیل میں 1,170 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ جبکہ حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق حماس کے خلاف اسرائیل کی جوابی کارروائی میں غزہ میں کم از کم 33,137 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
7 اکتوبر کو دہشت گردوں نے تقریباً 250 اسرائیلی اور غیر ملکی شہریوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ غزہ میں اب بھی 129 افراد زیر حراست ہیں جن میں سے 34 ہلاک ہو چکے ہیں۔
