واشنگٹن ،19اکتوبر(ہ س )۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر رکن جوش پال اسرائیل فلسطین کشیدگی کے دوران امریکہ کی اسرائیل کے لیے حمایت پر عہدے سے مستعفی ہو گئے، ان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل فلسطین تنازع میں بائیڈن انتظامیہ سے متفق نہیں ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر مشیر برائن فنوکین نے جوش پال کے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل کو فوری بنیادوں پر ہتھیاروں کی فراہمی کے باعث کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جوش پال دیگر ممالک کو اسلحہ فراہم کرنے کی منظوری دینے والے محکمہ خارجہ کے پولیٹیکل ملٹری افیئرز بیورو میں گزشتہ 10 برس سے زائد عرصے سے خدمات انجام دے رہے تھے۔
سوشل میڈیا پوسٹ کے مطابق جوش پال کا کہنا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل فلسطین کشیدگی کے دوران اسرائیل کو فوری بنیادوں پر اسلحہ فراہم کرنے کے فیصلوں کے باعث دیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جوش پال نے کہا کہ اسرائیل فلسطین تنازع میں بائیڈن انتظامیہ کے اقدامات سے متفق نہیں، یہ فلسطینی عوام اور طویل مدتی امریکی مفاد میں نہیں ہیں اور میں اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتا تھا اس لیے استعفیٰ دے دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر جوبائیڈن اسرائیل کے دورے پر تل ابیب پہنچے، جنہوں نے غزہ کے اسپتال پر حملے میں اسرائیلی حکومت کو کلین چٹ دیتے ہوئے الزام فلسطینی تنظیموں پر عائد کیا۔
خیال رہے کہ امریکا نے غزہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی رسائی کے لیے سلامتی کونسل میں برازیل کی پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
